’جمہوریت کے لیےکسی بھی حد تک جائیں گے‘

تصویر کے کاپی رائٹ

وزیر اعظم پاکستان یوسف رضا گیلانی نے کہا ہے کہ حکومت اور فوج کے درمیان کوئی غلط فہمی نہیں ہے۔

یہ بات انہوں نے قومی اسمبلی میں خطاب کے دوران کہی۔ انہوں نے کہا کہ حکومت نے بری فوج کے سربراہ اور خفیہ ایجنسی آئی ایس آئی کو پارلیمان میں طلب کیا جہاں اراکین اسمبلی نے مختلف معاملات پر سوالات پوچھے۔

انہوں نے خطاب میں کہا کہ صدر اور وزیر اعظم کے عہدے مستقل نہیں ہیں لیکن اگر جمہوریت کو خطرہ ہو گا تو حکومت کسی بھی حد تک جانے کو تیار ہے۔

انہوں نے حزبِ اختلاف کی بڑی جماعت پاکستان مسلم لیگ کے قائد میاں نواز شریف کو خراجِ عقیدت پیش کیا۔ انہوں نے کہا کہ وہ نواز شریف کی اس بات سے اتفاق کرتے ہیں کہ جمہوریت کو غیر آئینی طور پر پٹڑی سے نہ اتارا جائے۔

پاکستان کے امریکہ میں سفیر حسین حقانی کے پاکستان آنے پر وزیر اعظم نے کہا کہ حسین حقانی حکومت کو جواب دہ ہیں اور ان کو مشاورت کے لیے کسی بھی وقت بلایا جا سکتا ہے۔

یوسف رضا گیلانی نے اس خط کی بھی وضاحت کی جس میں کہا گیا ہے کہ دو مئی کو اسامہ بن لادن کی ہلاکت کے بعد صدرِ پاکستان نے امریکی حکام سے حکومت بچانے کے لیے مدد طلب کی تھی۔

انہوں نے کہا کہ اس بارے میں صدر اور وزارتِ خارجہ دونوں کی طرف سے وضاحت آ چکی ہے۔ واضح رہے کہ منصور اعجاز کے حوالے سے برطانوی اخبار فنانشل ٹائمز میں ایک خبر چھپی تھی جس میں کہا گیا تھا کے صدرِ پاکستان کو اسامہ بن لادن کی ہلاکت کے بعد خطرہ ہو گیا تھا کہ فوج ان کو ہٹا دے گی۔

منصور اعجاز کا نام لیے بغیر وزیرِ اعظم نے کہا کہ جس شخص نے اس کا دعویٰ کیا تھا اس کی ساکھ کا بھی سب کو معلوم ہے۔

اسی بارے میں