ذوالفقار مرزا کے بیان کی مذمت

مرزا تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption ذوالفقار مرزا نے ایم کیو ایم کے خلاف مہم شروع کی ہوئی ہے

سندھ کے وزیر اعلیٰ سید قائم علی شاہ نے واضح کیا ہے کہ پیپلز پارٹی اور حکومت کا ڈاکٹر ذوالفقار مرزا سے کوئی تعلق نہیں ہے اور وہ ان کے بیان کی مذمت کرتے ہیں۔

انہوں نے کہا ہے کہ اگر کسی کو بھی ان کا ساتھ دینے کا شوق ہے تو پھر ان کی پیروی کرتے ہوئے پارٹی سے مستعفی ہوجائے۔

متحدہ قومی موومنٹ کا سخت ردعمل سامنے آنے کے بعد سید قائم علی شاھ نے جمعرات کو پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پیپلز پارٹی اور متحدہ قومی موومنٹ میں اتفاق ہے، وہ جمہوریت کے استحکام کے لیے مل کر کام کریں گی اور آنے والے انتخابات میں بھی مشترکہ امیدوار سامنے لائے جائیں گے۔

قائم علی شاہ نے کہا کہ انہیں افسوس ہے کہ ڈاکٹر ذوالفقار مرزا آئے دن تنقید کرتے رہے ہیں اور ناشائستہ زبان استعمال کرتے ہیں۔ بقول ان کے انہیں پتہ نہیں ہے کہ ان کے ذہن اور دل میں کیا ہے مگر یہ پارٹی کی پالیسی نہیں ہے۔

اس دوران سندھ کے صوبائی وزیر اطلاعات شرجیل انعام میمن لندن سے فوری واپس پہنچ گئے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ وہ نجی دورے پر لندن گئے تھے اور ذوالفقار مرزا کے دورے سے ان کا کوئی تعلق نہیں ہے۔

واضح رہے کہ متحدہ قومی موومنٹ نے ان کی ڈاکٹر ذوالفقار مرزا کے ساتھ موجودگی پر اعتراض کیا تھا اور وضاحت مانگی تھی۔

کراچی ایئرپورٹ پر میڈیا سے بات کرتے ہوئے شرجیل انعام نے کہا کہ وہ صرف اپنی جماعت کو جوابدہ ہیں اور یہ ان کا نجی دورہ تھا۔ ’جو بھی سازشیں بنائی جا رہی ہیں وہ غلط ہیں اگر پارٹی مجھ سے پوچھےگی تو میں اس کا جواب دوں گا۔''

شرجیل کے مطابق ڈاکٹر ذوالفقار سے طیارے میں ملاقات ہوئی تھی لیکن لندن میں ان کی کیا مصروفیات ہیں وہ ان کا ذاتی مسئلہ ہے۔ ’اگر میں ان کے ساتھ شریک ہوتا تو واپس نہیں آتا، وہ جو کر رہے ہیں ان کا ذاتی فعل ہے کیونکہ پیپلز پارٹی ایسے کسی قدم کی حوصلہ افزائی نہیں کرتی۔‘

ڈاکٹر ذوالفقار مرزا کے ساتھ ایک رکن اسمبلی امداد پتافی بھی لندن گئے تھے۔ وزیر اعلیٰ نے کہا کہ بطور پارٹی کے صوبائی صدر انہوں نے امداد پتافی کی پارٹی رکنیت معطل کر دی ہے۔

قائم علی شاھ نے ڈاکٹر ذوالفقار مرزا کی حکومت سے علیحدگی اور کچھ ارکان اسمبلی کی جانب سے ان کی حمایت کے بعد پہلی بار اس معاملے پر کھل کر بات کی ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption مرزا کے بیانات پیپلز پارٹی اور ایم کیو ایم میں کشدیگی کا باعث ہیں

وزیر اعلیٰ کے مطابق ان میں سے کچھ لوگ ان سے ملے ہیں اور غلطی کا اعتراف کیا ہے۔ انہوں نے انہیں بتایا ہے کہ اگر وہ پارٹی اور اس کی قیادت کے ساتھ ہیں تو پھر ڈاکٹر مرزا سے الگ رہیں۔

’ یہ نئے لوگ ہیں اگر یہ سمجھتے ہیں کہ عوام میں ان کی پذیرائی ہے تو مستعفی ہوجائیں، پیپلز پارٹی کے سامنے الیکشن لڑیں اگر وہ مقبول ہیں تو پتہ چلے جائےگا۔ باقی پارٹی کے اندر رہ کے پیٹھ میں چھرا گھونپنے کی اجازت نہیں دی جائیگی۔‘

قائم علی شاہ کا کہنا تھا کہ یہ کوشش کی جا رہی ہے کہ پیپلز پارٹی اور ایم کیو ایم میں نا اتفاقی پیدا کی جائے تا کہ سندھ اور مرکز میں حکومت کو غیر مستحکم کیا جائے مگر یہ سازش کامیاب نہیں ہوگی۔

دوسری جانب متحدہ قومی موومنٹ کی رابطہ کمیٹی کا کراچی اور لندن میں اجلاس طلب کر لیا گیا ہے۔ اس میں موجودہ صورتحال پر غور کیا جائےگا۔

گزشتہ روز متحدہ قومی موومنٹ کے ایک وفد نے وزیراعظم یوسف رضا گیلانی سے ملاقات کی تھی۔ جس میں ایم کیو ایم کے وفاقی وزیر ڈاکٹر فاروق ستار، بابر غوری اور حیدر عباس رضوی شریک تھے۔

ملاقات میں ایم کیو ایم نے ڈاکٹر ذوالفقار مرزا کے بیانات اور ان کے ساتھ ارکان اسمبلی کی موجودگی پر تحفظات کا اظہار کیا گيا تھا۔

اسی بارے میں