گيس اور تیل کی چوری کے لیے قانون سخت

فائل فوٹو تصویر کے کاپی رائٹ afp
Image caption بعض علاقوں میں گیس پائٹ کے سات چھیڑ چھاڑ سے گیس کی فراہمی متاثر ہوتی ہے

پاکستانی پارلیمان کے ایوان بالا سینیٹ کے بعد جمعرات کو قومی اسمبلی نے بھی تیل اور گیس کی پائپ لائن کو نقصان پہنچانے یا چوری کرنے پر چودہ برس تک کی قید اور ایک کروڑ روپے تک جرمانے کی سزا دینے کا قانون منظور کرلیا ہے۔

اس قانون کے متن میں درج ہے کہ گیس کےگھریلو صارفین کوگیس کی چوری یا میٹر میں گڑ بڑ کرنے کی صورت میں چھ ماہ تک کی قید یا ایک لاکھ روپے تک کا جرمانہ یا دونوں سزائیں ملیں گی اور یہ ناقابل ضمانت جرم ہوگا۔

لیکن صنعتی اور تجارتی صارفین کو ایسے جرائم کی صورت میں ملزم کو بنا وارنٹ گرفتار کیا جا سکےگا، ان کی ضمانت نہیں ہو سکےگی اور ان کو پانچ سے دس برس قید اور پچاس لاکھ روپے تک کا جرمانہ یا دونوں سزائیں ہوں گی۔

اسلام آباد میں بی بی سی کے نامہ نگار اعجاز مہر کے مطابق جب یہ بل منظوری کے لیے قومی اسمبلی میں پیش ہوا تو سابق فوجی صدر کے دور میں وزیر قانون رہنے والے اور اب مسلم لیگ (ن) کے رکن قومی اسمبلی ذاہد حامد نے اس شق پر اعتراض کیا اور کہا کہ اس کا غلط استعمال ہوگا اس لیے صنعتی اور تجارتی صارفین کو بنا وارنٹ گرفتار کرنے کا اختیار نہیں ہونا چاہیے۔

اس پر وزیر پیٹرولیم ڈاکٹر عاصم حسین نے کہا کہ یہ بل سینیٹ منظور کر چکی ہے اس لیے فی الحال اُسے پاس ہونے دیں لیکن وہ ذاہد حامد کی بات سے اتفاق کرتے ہیں اور اس بارے میں بعد میں ترمیم کی جائے گی۔ اس کے بعد مسلم لیگ (ن) نے بل کی منظوری کی مخالفت نہیں کی اور بل اتفاق رائے سے منظور ہوا۔

پیٹرولیم کی بڑی پائپ لائنوں کو نقصان پہنچانے یا آلات سے چھیڑ چھاڑ کرنے اور تیل چوری کرنے پر سات سے چودہ برس قید اور ایک کروڑ روپے تک جرمانہ ہوگا۔ جبکہ معاون پائپ لائن کو نقصان پہنچانے یا اس سے تیل چوری کرنے پر پانچ سے دس برس تک قید اور تیس لاکھ تک جرمانہ ہوگا۔

تیل اور گیس کی پائپ لائنوں کو دھماکے سے اڑانے یا فراہمی میں خلل ڈالنے والے اور ان کی مدد کرنے والے کو سات سے چودہ برس تک قید کم از کم دس لاکھ روپے تک جرمانہ ہوسکےگا۔

اس قانون کے تحت گھریلو صارفین کے خلاف مقدمات درجہ اول کے مجسٹریٹ مقدمہ سن سکتے ہیں جبکہ دیگر معاملات میں سیشن کورٹ کو حقِ سماعت ہوگا۔ وزیر پیٹرولیم کے مطابق اس قانون کو متعارف کرانے کا مقصد تیل اور گیس کی فراہمی کو یقینی بنانے، چوری اور سبوتاژ کرنے کی کارروائیوں کو روکنے اور ذمہ داروں کو سخت سزائیں دینا ہے۔

واضح رہے کہ وزیر پیٹرولیم پہلے کہتے رہے ہیں کہ سندھ میں ایک سو اسی 180 ایم ایم سی ڈی اور پنجاب میں دو سو 200 ایم ایم سی ڈی گیس چوری ہوتی ہے۔

وزیر کے مطابق تیس جون کو ختم ہونے والے مالی سال کے آخری دو ماہ میں پنجاب اور خیبر پختونخوا کو گیس فراہم کرنے والی کمپنی سئی ناردرن نے چار ارب اٹھاسی کروڑ روپے اور سندھ اور بلوچستان کوگیس فراہم کرنے والی سوئی سدرن گیس کمپنی نے دو ارب تیس کروڑ روپے گیس چوری کے مد میں وصول کیے ہیں۔

دریں اثناء قومی اسمبلی نے اسلام آباد ہائی کورٹ ایکٹ سنہ دو ہزار دس میں ترمیم کا بل بھی منظور کیا ہے۔ یہ ترمیم چیف جسٹس اسلام آباد ہائی کورٹ کی سفارش پر منظور کی گئی ہے۔

اس کا مقصد اسلام آباد ہائی کورٹ میں درج ہونے والے مقدمات میں مالیت کی حد ایک کروڑ سے بڑھا کر دس کروڑ کرنا ہے کیونکہ ایک کروڑ کی مالیت کے مقدمات کی حد کی وجہ سے عدالت میں مقدمات کا ڈھیر لگ جائے گا۔

اسی بارے میں