بلوچستان:’پانچ برس میں ساڑھے چودہ سو ہلاکتیں‘

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service

پاکستان کے وزیر داخلہ رحمان ملک نے جمعہ کو قومی اسمبلی کو بتایا ہے کہ دو برسوں میں کراچی میں انتالیس سو اڑتیس لوگ قتل کیے گئے جس میں آٹھ سو اڑتیس افراد ٹارگٹ کلنگ میں مارے گئے۔

یہ بات وزیر داخلہ نے قومی اسمبلی کے مسلم لیگ (ن) کی رکن خالدہ منصور کے پوچھے گئے سوال کے تحریری جواب میں کہی ہے۔

وزیر داخلہ نے ایوان کو مزید بتایا کہ سنہ دو ہزار سات سے سات اکتوبر دو ہزار گیارہ تک بلوچستان میں پانچ برسوں میں تقریباً ساڑھے سولہ سو پرتشدد واقعات میں ساڑھے چودہ سو افراد ہلاک اور بتیس سو سے زیادہ زخمی ہوئے ہیں۔

یہ وہ اعداد وشمار ہیں جن کے مقدمات درج ہوئے جبکہ انسانی حقوق کمیشن کہتا رہا ہے کہ پاکستان جیسے ممالک میں کئی واقعات رپورٹ ہی نہیں ہوتے۔

وزیر داخلہ نے قومی اسمبلی کو بتایا کہ سنہ دو ہزار دس اور گیارہ کے دوران کراچی میں انتالیس سو اڑتیس افراد کے قتل کے واقعات میں سے صرف تین سو پینسٹھ واقعات کا چالان پیش کیا گیا اور دو سو تیس ٹارگٹ کلنگ میں ملوث ملزمان کو گرفتار کیا گیا۔

کراچی اور بلوچستان میں بدامنی اور لاقانونیت روکنے کے لیے وزیر کے مطابق حکومت نے متعدد اقدامات کیے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ان اقدامات میں سیکورٹی فورسز کو اسلحہ، گاڑیاں اور دیگر آلات کی فراہمی، چیک پوسٹس کا قیام، سکیورٹی فورسز کے گشت میں اضافہ، بلوچستان اور کراچی کے سیکورٹی حکام کے درمیاں مربوط رابطہ اور معلومات کے تبادلے سمیت متعدد اقدامات کیے گئے ہیں۔

وزیر داخلہ نے بتایا کہ بلوچستان کے چھ شہروں میں فرنٹیئر کور کی سترہ پلاٹون تعینات کی گئی ہیں جبکہ کچھی، سبی اور نصیر آباد میں فرنٹیئر کور کی ایک ونگ (سات سو تیس افراد) تعینات ہیں اور مستونگ میں مزید تین پلٹون تعینات کی جا رہی ہیں۔

انہوں نے بتایا کہ تین برسوں میں بلوچستان میں تقریباً نوے کروڑ روپے فوج اور فرنٹیئرکور کو تیل اور معاوضوں کے مد میں ادا کیے گئے ہیں۔ ان کے بقول بلوچستان میں حکومتی اقدامات کی وجہ سے اچھے نتائج برآمد ہوئے ہیں اور ٹارگٹ کلنگ کے واقعات میں کمی واقع ہوئی ہے۔

وزیر داخلہ کا دعویٰ اپنی جگہ لیکن اگر ان کے فراہم کردہ اعداد وشمار کا ہی جائزہ لیں تو سنہ دو ہزار سات کی نسبت موجودہ حکومت کے دور میں بلوچستان قتل اور زخمیوں کی تعداد میں اضافہ ہوا ہے۔

وزیر داخلہ نے بیگم نزہت صادق کے سوال کے جواب میں بتایا کہ صدرِ پاکستان آصف علی زرداری نے تاحال چوبیس ہزار چار سو اٹھاسی افراد کی سزاؤں میں کمی کی ہے۔ ان میں چار ہزار تین سو اڑسٹھ خواتین بھی شامل ہیں۔ ان کے بقول سب سے زیادہ سزائیں پنجاب سے تعلق رکھنے والوں کی معاف ہوئیں جو اٹھارہ ہزار سے زیادہ ہیں۔

انہوں نے بتایا کہ جن افراد کی سزائیں معاف ہوئی ہیں ان پر منشیات، چوری، فوج چھوڑنے، قتل، ریپ، اسلحہ رکھنے اور دیگر جرائم کے مقدمات درج تھے۔ تاہم ریپ سمیت کسی بھی کیٹیگری کی معاف کردہ سزاؤں کی جرم وار تفصیل فراہم نہیں کی گئی۔

وقفہ سوالات کے دوران وزیر خزانہ عبدالحفیظ شیخ نے طاہرہ اورنگزیب کے سوال کے جواب میں بتایا کہ سیلاب زدگاں کی امدا د کے لیے عالمی برادری انیس کروڑ بیاسی لاکھ اسی ہزار ڈالر امداد دینے کا وعدہ کیا ہے۔

ایک اور سوال کے جواب میں انہوں نے بتایا کہ موجودہ حکومت نے چار ہزار تین سو چراسی ارب سے زائد کا قرضہ حاصل کیا ہے۔

وزیر خزانہ نے ایک اور سوال کے جواب میں بتایا کہ پاکستان میں افراط زر کی شرح گزشتہ مالی سال میں پندرہ اعشاریہ تین فیصد رہی جو رواں مالی سال میں گیارہ فیصد ہونے کی توقع ہے۔

مولوی آغا محمد کے سوال کے جواب میں وزیر خزانہ نے بتایا کہ موجودہ حکومت کے دور میں ڈالر کی نسبت روپے کی قدر میں اٹھائیس فیصد کمی واقع ہوئی ہے۔ جس کی بڑی وجہ جاری اخراجات کا بڑھتا ہوا خسارا ہے۔

ان کے بقول عالمی منڈی میں تیل سمیت مختلف اشیاء کی قیمتوں اور درآمدات میں اضافہ، پاکستان میں امن و امان اور عالمی مالیاتی بحران کی وجہ سے سرمایہ کاری میں کمی دیگر اہم وجوہات ہیں۔

اسی بارے میں