پی ٹی اے تنقید اور مذاق کی زد میں

فونز تصویر کے کاپی رائٹ bbc
Image caption پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی نے قابلِ اعتراض الفاظ کی ایک فہرست تیار کی ہے

موبائل کمپنیوں سے قابلِ اعتراض الفاظ پر مشتمل ٹیکسٹ پیغامات بلاک کرنے کے پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی کے احکامات کو سماجی رابطے کی ویب سائٹس پر جہاں سخت تنقید کا نشانہ بنایا جا رہا ہے وہاں ان احکامات کا مذاق بھی اڑایا جا رہا ہے۔

فیس بک پر جہانزیب حق نے ایک کارٹون شائع کیا ہے جس میں ایک بچہ مدد کے لیے ایس ایم ایس کرتا ہے کہ اس کو بچوں کے ساتھ جنسی زیادتی کا نشانہ بنانے والے شخص سے بچایا جائے۔ تاہم آگے سے جواب آتا ہے کہ ’آپ کا ایس ایم ایس پی ٹی اے نے بلاک کردیا ہے شکریہ‘ ۔

اسی طرح ٹوئٹر پر ایک شخص نے ٹوئیٹ کیا ہے کہ پی ٹی اے نے لفظ کریم کو بھی بلاک کردیا ہے اس لیے مٹھائی کھانے کی اشیاء کا نام بھی نہ لیا جائے۔

اسی ٹوئیٹر نے ٹوئیٹ کیا ہے کہ ایتھلیٹ فُٹ کو بھی بلاک کردیا گیا ہے۔ کیا کوئی بتا سکتا ہے کہ اس لفظ میں کیا غلط ہے۔

اسی طرح ایک اور ٹوئیٹ میں حیرت سے یہ پوچھا گیا ہے کہ مینگو یعنی آم اور ٹیکسی میں کیا مسئلہ ہے کہ پابندی کی زد میں آئے۔

ایک اور شخص نے ٹوئیٹ کیا ہے کہ ایس ایم ایس میں گالیوں کا استعمال منع ہے، انٹرنیٹ پر فحش ویڈیو دیکھنا منع ہے اور فوجی سربراہ کو ہٹانے کے لیے امریکہ کو میمو بھیجنا بھی منع ہے۔

ایک اور ٹوئیٹ کرنے والے نے اپنے خیالات کا اظہار کچھ اس طرح کیا ہے ’پاکستان میں جب بھی انٹرنیٹ کا استعمال کرتا ہوں تم مجھے پہلے سے زیادہ حیران کرتے ہو۔‘

اس لسٹ کے بارے میں ایک اور ٹوئیٹ اظہارِ خیال کچھ اس طرح کیا گیا ہے ’جیسے کہ توقع کی جا رہی تھی یہ لسٹ پورے پاکستان میں پھیل گئی ہے اور اب بچے زیادہ روانی سے گالیاں دے رہے ہیں۔‘

بلاک کیے جانے الفاظ کو تیار کرنے والے کے حوالے سے بھی ٹوئیٹس کیے گئے ہیں۔ ایک ٹوئیٹ میں کہا گیا ہے کہ اس فہرست کو تیار کرنے والے کو پرائیڈ آف پرفارمنس ملنا چاہیے۔

اسی بارے میں