’خط سلامتی و خود مختاری پر سوالیہ نشان‘

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption کسی غیر آئینی اقدام کی کبھی حمایت نہیں کریں گے:نواز شریف

پاکستان مسلم لیگ نون کے صدر سابق وزیراعظم میاں نواز شریف نے مطالبہ کیا ہے کہ امریکی ایڈمرل مائیک مولن کو لکھے خط کےمعاملے کی تحقیقات کے لیے ایک کمیٹی بنائی جائے جو دس سے پندرہ روز کے اندر حقائق کو قوم کے سامنے پیش کردے۔

انہوں نے یہ بات لاہور میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہی۔

نواز شریف نے کہا کہ یہ خط ملکی سلامتی اور خود مختاری پر سوالیہ نشان ہے۔اس کی تحقیقات کے لیے ایک کمیٹی بنائی جائے جس میں سینٹ قومی اسمبلی کے وہ اراکین شامل ہوں جن پر قوم کو اعتبار ہے۔اس کے علاوہ وکلاء اور عدلیہ کے لوگوں کو ا س کمیٹی میں رکھا جائے اور پھر اس کمیٹی کو ٹاسک دیا جائے کہ’ آپ کو دس یا پندرہ دن دیے جاتے ہیں تاکہ دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی ہو سکے‘۔

نواز شریف نے کہا کہ اس مینڈیٹ کے ساتھ اگر کمیشن بنایا جائے تو ٹھیک ہے ورنہ دال میں کچھ کالا ہے۔

انہوں نے کہا کہ اس سے پہلے سانحہ ایبٹ آباد پر بھی مئی میں کمشن بنا تھا جس کے کئی اجلاس ہوچکے ہیں لیکن کوئی نتیجہ سامنے نہیں آیا۔

لاہور سے نامہ نگار علی سلمان کے مطابق ایک سوال کے جواب میں نواز شریف نے کہا کہ انہوں نے قسم کھائی ہے کہ وہ کسی غیر آئینی اقدام کی کبھی حمایت نہیں کریں گے، کسی بھی سٹیبلشمنٹ سپانسر غیر آئینی اقدام کو کبھی قبول نہیں کریں گے۔

انہوں نے کہا کہ یہ وہ عناصر ہیں جنہوں نے پاکستان کو نقصان پہنچانے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی،انہوں نے مشرقی پاکستان کو الگ کرایا،پاکستان کی جنگیں کرائیں اور نائن الیون کے بعد کسی سے مشورہ کیے بغیر تمام امریکی مطالبات تسلیم کرلیے۔یہ وہ ہیں جنہوں نے خفیہ طور پر کارگل کی جنگ کر دی۔

نواز شریف نے کہا کہ یہ سلسلہ اب بند ہونا چاہیے یہ عناصر اپنا کھیل کھیلنا بند کردیں ورنہ سب کچھ عوام کے سامنے لایا جائےگا۔

ایک اور سوال کے جواب میں نواز شریف نے کہا کہ ان کی شاہ محمود قریشی سے جو ملاقات ہوئی تھی اس میں شاہ محمود قریشی نے مسلم لیگ نون میں شامل ہونے کی خواہش ظاہر کی تھی۔

نواز شریف نے کہا کہ وہ بھی چاہتے ہیں کہ شاہ محمود قریشی ان کی جماعت میں شامل ہوجائیں۔انہوں نے کہا اب ان کی شاہ محمود قریشی سے ایک اور ملاقات ہونے والی ہے جس میں بات وہیں سے شروع کی جائے گی جہاں چھوڑی گئی تھی۔

اسی بارے میں