’ٹھوس شہادتیں فراہم نہیں کی گئیں‘

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption کمیشن کے پاس واحد گواہی ان خواتین کی جانب سے آئی ہے جن کے بارے میں کہا جا رہا ہے کہ وہ القاعدہ سربراہ کی بیویاں ہیں

پاکستان میں اسامہ بن لادن کی موجودگی، ہلاکت اور اس سے جڑے دیگر معاملات کی چھان بین کرنے والے کمیشن کو شہادتیں ریکارڈ کرنے کے دوران اہم سمجھے جانے والے گواہوں نے اسامہ بن لادن کی پاکستان میں موجودگی کے بارے میں ٹھوس اور قابل تصدیق اطلاع یا مواد فراہم نہیں کیا۔

القاعدہ تنظیم کے سربراہ اسامہ بن لادن اس سال دو مئی کو ایبٹ آباد میں امریکی کارروائی میں ہلاک ہو گئے تھے۔ پاکستان نے اس واقعے سے لا علمی ظاہر کی تھی اور اس کی تحقیقات کے لیے سپریم کورٹ کے سنیئر جج جناب جسٹس جاوید اقبال کی سربراہی میں ایک خصوص کمیشن تشکیل دیا تھا۔

اس کمیشن کی کارروائی سے واقف ایک سینئر سکیورٹی اہلکار کا کہنا ہے کہ کمیشن کے ارکان نے اس واقعے سے متعلق ’اہم گواہوں‘ کی فہرست بنائی تھی جن سے طویل انٹرویوز کے بعد بھی کمیشن اسامہ بن لادن کی ایبٹ آباد میں موجودگی اور ان کے وہاں گزارے جانے والے دنوں کی تفصیل کے بارے میں زیادہ معلومات حاصل نہیں کر سکا۔

اسامہ بن لادن کی اس کمپاؤنڈ میں موجودگی کے بارے میں کمیشن کے پاس واحد گواہی ان خواتین کی جانب سے آئی ہے جن کے بارے میں کہا جا رہا ہے کہ وہ القاعدہ سربراہ کی بیویاں ہیں۔

کمیشن کے سربراہ جسٹس جاوید اقبال، جو اب سپریم کورٹ کی جج کی حیثیت سے ریٹائر ہو چکے ہیں، نے کمیشن بننے کے بعد کہا تھا کہ وہ اسامہ بن لادن کی پاکستان میں موجودگی کے بارے میں امریکی حکومت سے بھی شواہد طلب کریں گے۔

تاہم امریکی سفارتخانے کے ترجمان کے مطابق کمیشن کی جانب سے امریکی حکومت کے ساتھ کوئی رابطہ نہیں کیا گیا ہے۔

امریکی سفارتخانے کے ترجمان رابرٹ ریم نے بی بی سی کے استفسار پر بتایا ’ایبٹ آباد کمیشن کی جانب سے ہمارے سفارتخانے یا حکومت سے کوئی رابطہ نہیں کیا گیا اور نہ ہی اسامہ بن لادن کے بارے میں کوئی شواہد مانگے ہیں۔‘

کمیشن کی کارروائی سے واقف بعض اہلکاروں کا کہنا ہے کہ اس صورت میں کمیشن اسامہ بن لادن کی بیواؤں کے بیانات کی تصدیق کے لیے مختلف اہم سمجھے جانے والے گواہوں کو طلب کیا لیکن ان میں سے کسی نے کمیشن کے ارکان کے سوالوں کا واضح اور ٹھوس جواب نہیں دیا۔

جن گواہوں کو اہم قرار دیا جا رہا تھا ان میں ایبٹ آباد میں اسامہ بن لادن کے پڑوسی، ان کے گھر آنے جانے والے افراد جن میں دودھ دینے والا یا سودہ سلف پہنچانے والے لوگوں کے علاوہ علاقے میں تعینات پولیس اور انٹیلی جنس افسران شامل تھے۔

ایک اہلکار کے مطابق ’ایسا معلوم ہوتا تھا کہ یہ سب افراد لگے بندھے جواب دینے کا فیصلہ کر کے آئے تھے اور کمیشن ارکان کے بار بار اور مختلف طریقوں سے پوچھے گئے سوالوں کے جواب بھی یہ سب لوگ ایک ہی لگے بندھے طریقے سے دیتے رہے۔‘

کمیشن کی کارروائی سے متعلق ایک افسر کے مطابق اس صورتحال میں پاکستان میں اسامہ بن لادن کی موجودگی اور اس کے خلاف ہونے والی امریکی کارروائی کے بارے میں کمیشن کے پاس واحد گواہی اسامہ بن لادن کی بیواؤں کی زبانی ہے جسے بعض کمیشن ارکان شک کی نظر سے دیکھ رہے ہیں۔

اسی بارے میں