ضمانت نامہ دوبارہ لیں: وزارتِ داخلہ

شدت پسند فائل فوٹو تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption ملک بھر میں ساڑھے چار سو سے زائد علماء اور دیگر افراد کوگیارہ ڈبل ای میں رکھا گیا ہے۔

وزارت داخلہ نے اسلام آباد سمیت چاروں صوبوں کے متعلقہ حکام کو ہدایت کی ہے کہ اُن افراد سے دوبارہ ضمانت نامہ لیں جنہیں انسداد دہشت گردی کی دفعہ گیارہ ڈبل ای کے خانے میں رکھا گیا ہے اور جن پر قانون نافذ کرنے والے اداروں کو شُبہ ہے کہ اُن کا تعلق ابھی تک کالعدم تنظیموں سے ہے۔

ان افراد میں اکثریت علماء اور مختلف مساجد کے پیش اماموں کی ہے۔

متعلقہ حکام سے کہا گیا ہے کہ ان علماء اور افراد کے ضمانت نامے علاقے کی ایسی شخصیات سے لیے جائیں جن کے بارے میں عام تاثر یہ ہو کہ اُن کا تعلق کسی بھی کالعدم تنظیم سے نہیں ہے اور نہ ہی وہ کسی بھی ایسی تنظیم کے بارے میں کوئی نرم گوشہ رکھتے ہیں۔

جن افراد کو انسداد دہشت گردی ایکٹ کی دفعہ گیارہ ڈبل ای میں رکھا گیا ہے انہیں قانونی طور پر نہ صرف متعلقہ ڈپٹی کمشنر اور پولیس کے حکام کو پانچ لاکھ سے لیکر دس لاکھ روپے تک کا ضمانت نامہ جمع کروانا پڑتا ہے بلکہ شہر سے باہر جانے کی صورت میں متعلقہ تھانے کو مطلع بھی کرنا ہوگا۔

وزارت داخلہ کے ایک اہلکار نے اپنا نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بی بی سی کو بتایا کہ خفیہ اداروں نے وزارت داخلہ کو رپورٹ بھیجی ہیں جس میں کہا گیا ہے کہ ملک بھر میں مختلف مذہبی فرقوں سے تعلق رکھنے والے ساڑھے چار سو سے زائد علماء اور دیگر افراد کو گیارہ ڈبل ای میں رکھا گیا ہے۔

ان افراد میں سے ڈھائی سو سے زائد کو انسداد دہشت گردی ایکٹ کی دفعہ گیارہ ڈبل ای کی اے کیٹگری میں رکھا گیا ہے اور اُنہیں دس لاکھ روپے تک کے ضمانت نامے متعقلہ شہر کی پولیس اور انتظامیہ کے افسران کو جمع کروانے ہوتے ہیں جبکہ دو سو کے قریب افراد کو اس سیکشن کی بی کیٹگری میں رکھا گیا ہے جو پانچ لاکھ روپے تک کے ضمانتی مچلکے متلقہ حکام کو جمع کروانے کے پابند ہیں۔

ذرائع کے مطابق ان ضمانت ناموں کی تجدید ہر تین سے چھ ماہ کے بعد ضروری ہوتی ہے لیکن ایسے کیسز کی تعداد زیادہ ہے جس میں متعلقہ انتظامیہ یا پولیس کے حکام نے ان علماء سے ضمانت ناموں کی تجدید نہیں کروائی۔

ذرائع کا کہنبا ہے کہ ان میں سے اکثریت نے آخری مرتبہ اپنے ضمانت نامے کی تجدید سنہ دوہزار آٹھ میں کروائی تھی اور اُس کے بعد نہ تو ان افراد نے اور نہ ہی متعلقہ حکام نے اُن سے ضمانت ناموں کی تجدید کروانے کے بارے میں کہا ہے۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ کیٹگری اے میں رکھے جانے والے افراد کے بارے میں خفیہ اداروں کا کہنا ہے کہ اُن کے کالعدم تنظیموں کے ساتھ قریبی روابط ہیں اور وہ اُن تنظیموں سے تعلق رکھنے والے افراد کو سہولتیں بھی باہم پہنچاتے ہیں۔

اے کیٹگری میں رکھے جانے والے افراد میں سے اکثریت کا تعلق صوبہ پنجاب سے ہے جبکہ صوبہ سندھ دوسرے نمبر پر ہے۔

رپورٹ کے مطابق خفیہ اداروں کی طرف سے تیار کی جانے والی فہرست میں سب سے زیادہ تعداد کالعدم تنظیموں ملت اسلامیہ پاکستان ، جمعیت الاانصار اور تحریک جعفریہ پاکستان سے ہے۔

ذرائع کا کہنا تھا کہ رپورٹ میں یہ امکان ظاہر کیا گیا ہے کہ متعلقہ حکام کی اس معاملے میں عدم توجہی کی وجہ سے اس کیٹگری میں رکھے جانے والے افراد ملک اور سماج دشمن سرگرمیوں میں ملوث ہو رہے ہیں۔

اسی بارے میں