’استاد کی مار، تعلیم سے خائف کرنے کی وجہ‘

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption ’ہمارے معاشرے میں استاد کی مار کو طالب علموں کی بہتری سے تعبیر کیا جاتا ہے‘

ایک اندازے کے مطابق پاکستان میں ہر سال پینتیس سے پچاس ہزار بچے صرف سکولوں میں اساتذہ کے تشدد سے خوفزدہ ہو کر پڑھائی چھوڑ دیتے ہیں۔

یہ بات بچوں کے عالمی دن کی مناسبت سے کوئٹہ میں منعقدہ ایک تقریب میں بتائی گئی ہے۔

انیس نومبر کو پوری دنیا کی طرح اس بار بھی پاکستان میں بچوں کا عالمی دن منایا جا رہا ہے۔

اس دن کے حوالے سے جمعہ کو منعقدہ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے غیر سرکاری تنظیم سوسائٹی فار امپاورنگ اینڈ ہیومن ریسورس ’سحر‘ کے ڈائریکٹر عبدالودود نے کہا کہ ہمارے معاشرے میں درس و تدریس کے حوالے سے استاد کی مار ایک روایتی جملہ ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ پاکستان میں روایتی طور پر استاد اور مدرس کی مار کو طالب علموں کی بہتری سے تعبیر کیا جاتا ہے اور ترقی پسند معاشروں کے برعکس ہمارے معاشرے میں آج بھی سکولوں میں بچوں کو تشدد کا نشانہ بناکر درس و تدریس کے عمل کی جانب راغب کرنے کا روایتی اور دقیانوسی طریقہ جاری ہے۔

انہوں نے کہا کہ بچوں پر تشدد کا برا اثر اگر فوری نظر نہیں آتا تو وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ اس کے منفی اثرات نظر آنا شروع ہو جاتے ہیں اور یہی وجہ ہے کہ اس تشدد کی وجہ سے پاکستان میں ہر سال پینتیس سے پچاس ہزار بچےدرس و تدریس کا عمل ترک کرنے پر مجبور ہوتے ہیں۔

کوئٹہ میں بی بی سی کے نامہ نگار ایوب ترین کا کہنا ہے کہ حکومتِ بلوچستان نے تعلیمی اداروں میں اساتذہ کی جانب سے بچوں کی پٹائی پر پابندی عائد کرنے سے متعلق حکومتی سطح پر نوٹیفکیشن کا اجراء بھی تعطل کا شکار ہے۔

اس بارے میں عبدالودود کا کہنا تھا کہ سکولوں اور مدارس میں اکثر طالبعلموں کی اساتذہ کے ہاتھوں پٹائی کے واقعات کی روک تھام کے لیے باقاعدہ ڈرافٹ تیار کیاگیا اور صوبائی محکمہ تعلیم سے مشاورت کے بعد بلوچستان کے تعلیمی اداروں میں بچوں کو تشدد کا نشانہ بنانے کے روایتی طریقوں پر مکمل طور پر پابندی عائد کرنے کا فیصلہ بھی ہوا لیکن تاحال اس کا نوٹیفکیشن جاری نہیں ہو سکا۔

انہوں نے بتایا کہ ’بچوں کو نظم و نسق کا پابند بنانے کے لیے تشدد کے استعمال کے رحجان کے خاتمہ کے لیے ہم قانون سازی بھی کر رہے ہیں اور حکومتی نمائندوں کے ساتھ مل کر بہت جلد بلوچستان اسمبلی سے اس بل کو قانون کی صورت منظور کرا لیا جائے گا جس کے بعد نہ صرف بچوں پر تشدد پر پابندی ہوگی بلکہ خلاف ورزی کے مرتکب افراد کو سزا بھی دی جا سکے گی‘۔

اس سلسلے میں صوبائی سیکرٹری تعلیم منیر احمد بادینی کا کہنا تھا کہ ’میں ذاتی طور پر اس بات کا قائل ہوں کہ تعلیمی اداروں میں بچوں پر تشدد نہیں ہونا چاہیے۔ یہی وجہ ہے کہ جب غیر سرکاری تنظیم کی جانب سے تجویز اور سفارش موصول ہوئی تو فوری طور اس کو تسلیم کیا‘۔

بقول سیکرٹری تعلیم کے تنظیم کی سفارشات کے بعد صوبائی حکومت نے بلوچستان کے تعلیمی اداروں میں بچوں کو مار پیٹ کرنے پر پابندی عائد کردی ہے اور اساتذہ کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ بچے کی دماغی اور جسمانی نشوونما کے لیے انہیں ڈرانے دھمکانے کی بجائے ان کی حوصلہ افزائی کر کے ذہنی صلاحیتوں کو نکھاریں ۔