مولن کو خفیہ خط کی تحقیق ہو ورنہ۔

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption ملک کی خفیہ ایجنسیاں ایک مخصوص سیاسی جماعت کی حمایت کر رہی ہیں: نواز شریف

مسلم لیگ نون کے صدر نواز شریف نے کہا ہے کہ امریکی فوج کےسابق سربراہ مائیک مولن کو لکھے جانے والے خفیہ خط کی تحقیقات نہ کروائی گئی تو ان کی جماعت اس معاملے کی تحقیقات کے لیے سپریم کورٹ سے رجوع کرے گی۔

راولپنڈی کے نواحی علاقے مندرہ میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے نواز شریف نے کہا کہ اگر حکومت نے مائیک مولن کو لکھے جانے والے خفیہ خط کے معاملے کی غیر جانبدارنہ تحقیقات نہ کروائیں تو یہ معاملہ عدالت کے روبرو اٹھایا جائےگا۔

مسلم لیگ نون کے صدر نے کہا کہ اس معاملے پر فوری تحقیقات کی جائیں اور اس معاملے پر کی جانے والی تحقیقات کے نتائج دس روز میں سامنے آ جانے چاہیں۔ نوازشریف نے کہا کہ یہ ممکن نہیں ہے کہ اتنے بڑے معاملے کو نظر انداز کردیا جائے اور بقول ان کے ہرصورت میں اس معاملے کا فیصلہ ہوگا۔

مسلم لیگ نون کے صدر نے الزام لگایا کہ ان کی جماعت کے پاس ایسے شواہد موجود ہیں کہ فوجی ایجنیساں ایک مخصوص سیاسی جماعت کی بھر پور حمایت کی رہی ہیں اور نواز شریف نے کہا کہ اس عمل کو فوری رکنا چاہئے۔ ان کا کہنا ہے کہ پاکستانی فوج کو سیاست میں مداخلت کرنے کی بدنامی مول نہیں لینی چاہئے ۔

نواز شریف نے کہا کہ آرمی چیف جنرل اشفاق کیانی کی پوری پوری ذمہ داری ہے کہ اگر فوجی ایجنسیاں سیاست میں ملوث ہورہی ہیں تو ان کو روکنا چاہئے اور ان کے اس کردار کو فوری ختم کیا جانا چاہئے اور ایسا نہ ہوا تو پھر ان پر بھی یقینا الزام آئے گا۔

سینٹ انتخابات کے بارے میں سوال پر نواز شریف نے کہا کہ سینٹ کے انتخابات وقت پر ہونے چاہئے اور ان کی جماعت سینٹ کے انتخابات سے خوفزدہ نہیں ہے۔انہوں نے اس تاثر کی نفی کی کہ سینٹ کے انتخابات میں حکمران جماعت کا پلڑ بھاری ہوگا۔