سندھ کے وزیرِ اطلاعات مستعفی ہوگئے

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption کسی دباؤ میں آ کر استعفٰی نہیں دیا اور نہ ہی پارٹی نے مجھ سے استعفٰی مانگا تھا:شرجیل میمن

صوبہ سندھ کے وزیرِ اطلاعات شرجیل میمن نے اسلام آباد میں صدر زرداری سے ملاقات کے بعد اپنے عہدے سے مستعفی ہونے کا اعلان کیا ہے۔

شرجیل میمن کو صدر زرداری نے سندھ کے سابق وزیرِ داخلہ ذوالفقار مرزا کے ہمراہ لندن جانے کے معاملے پر بات چیت کے لیے ایوانِ صدر طلب کیا تھا۔

بی بی سی اردو کے جعفر رضوی سے بات کرتے ہوئے پیپلز پارٹی کے رہنما کا کہنا تھا کہ وزارت جماعت کی امانت تھی جو میں نے واپس کی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ ’میرا دورۂ لندن نجی تھی اور اسے لوگوں نے غلط رنگ دیا اور اس کی وجہ سے پارٹی کو شاید شرمندگی اٹھانا پڑی۔ اس وجہ سے میں نے استعفٰی دیا ہے‘۔

اس سوال پر کہ یہ فیصلہ حکومت کی اتحادی ایم کیو ایم کی ناراضگی اور اس حوالے سے کسی دباؤ کا نتیجہ تو نہیں، شرجیل میمن نے کہا کہ ’میں نے کسی دباؤ میں آ کر استعفٰی نہیں دیا اور نہ ہی پارٹی نے مجھ سے استعفٰی مانگا تھا‘۔

پاکستانی ذرائع ابلاغ کی جانب سے ان کے دورے کو ذوالفقار مرزا کے دورے سے نتھی کیے جانے پر شرجیل میمن کا کہنا تھا کہ وہ پیپلز پارٹی کے کارکن ہیں اور ذوالفقار مرزا بھی پیپلز پارٹی کا حصہ ہیں لیکن ان کا یہ دورہ ذاتی حیثیت میں تھا اور ان کا ذوالفقار مرزا کے ساتھ ایک پرواز سے لندن جانا محض اتفاق تھا۔

ادھر پاکستان کے سرکاری ٹی وی کے مطابق صدر زرداری کے ترجمان کا کہنا ہے کہ شرجیل میمن نے صدرِ پاکستان سے ملاقات میں ذوالفقار مرزا کے ہمراہ جانے اور جماعت کے لیے پریشانی پیدا کرنے پر معذرت کی اور اپنا استعفٰی بھی صدر کو پیش کیا۔

صدارتی ترجمان کا کہنا ہے کہ صدر کا کہنا تھا کہ شرجیل میمن کا استعفٰی منظور کرنے کا فیصلہ سندھ کے وزیراعلٰی قائم علی شاہ کریں گے۔

خیال رہے کہ متحدہ قومی موومنٹ نے حکومتِ سندھ کے وزیرِ اطلاعات کی ڈاکٹر ذوالفقار مرزا کے ساتھ لندن جانے پر اعتراض کیا تھا اور پیپلز پارٹی سے وضاحت مانگی تھی۔

ذوالفقار مرزا آج کل لندن میں ہیں جہاں بقول ان کے انہوں نے عمران فاروق قتل کیس کی اہم دستاویزات سکاٹ لینڈ یارڈ کو سونپ دی ہیں۔

اسی بارے میں