عورتوں کی تعلیم کے خلاف نہیں: طالبان

تصویر کے کاپی رائٹ
Image caption سوات میں طالبان کے دور میں چار سو سے زیادہ سکولوں کو دھماکوں سے اڑا دیا گیا تھا

کالعدم تنظیم تحریک طالبان پاکستان نے کہا ہے کہ وہ کبھی بھی خواتین کی تعلیم کے مخالف نہیں رہے ہیں بلکہ وہ صرف سکیولر اور مغربی تعلیم کے مخالف ہیں جس میں ان کے مطابق ساری توجہ دنیاوی تعلیم پر دی جاتی ہے۔

یہ بات تحریک طالبان کے ترجمان احسان اللہ احسان نے سوات کی طالبہ ملالہ یوسف زئی کا عالمی امن ایوارڈ کےلیے نامزدگی کے تناظر میں کہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ذرائع ابلاغ میں جاری کئے گئے بیانات میں کہا گیا ہے ملالہ یوسف زئی ایسے وقت سوات سے ڈائری لکھا کرتی تھی جب وہاں طالبان کی طرف سے لڑکیوں کی تعلیم پر مکمل طورپر پابندی عائد تھی۔

انہوں نے کہا کہ طالبان کبھی بھی لڑکیوں کے تعلیم کے مخالف نہیں رہے۔ انہوں نے وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ طالبان صرف سکیولر اور مغربی تعلیم کے مخالف ہے جس میں ان کے بقول ساری توجہ دنیاوی تعلیم پر دی جاتی ہے۔

خیال رہے کہ دو ہزار نو میں جب وادی سوات کے اکثر علاقے طالبان کے کنٹرول میں تھے تو ان دنوں خوف کی وجہ سے لڑکیاں سکول نہیں جاسکتی تھیں۔ یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ خیبر پختون خوا میں سب سے پہلے سرکاری سکولوں پر حملوں کا آغاز بھی سوات سے ہوا تھا۔ سوات میں سب سے زیادہ یعنی چار سو کے قریب سکول بم دھماکوں یا دیگر حملوں کا نشانہ بنے ہیں