حقانی تنازعہ: فیصلہ کا اختیار وزیرِاعظم کو

حسین حقانی
Image caption حسین حقانی خفیہ خط کے بارے میں ابھی وضاحت پیش کریں گے

وفاقی حکومت نے ایک بار پھر واضح کیا ہے کہ واشنگٹن میں پاکستانی سفیر حسین حقانی کے مستقبل کے بارے میں کوئی بھی فیصلہ کرنا وزیراعظم کا اختیار ہے اور یہ فیصلہ بھی ان پر لگنے والے الزامات کی تحقیقات کے بعد ہی ممکن ہے۔

دوسری طرف آج یہ اطلاعات ہیں کہ حسین حقانی کی ملک کی اعلٰی قیادت سے ملاقات ہو رہی ہے تاہم اس بارے میں سرکاری طور پر کچھ نہیں بتایا گیا ہے۔

پاکستان کے وزیر دفاع چودھری احمد مختار نےلاہور میں میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا کہ یہ ممکن نہیں ہے کہ حسین حقانی کو کھڑے کھڑے ان کے عہدے سے برطرف کردیا جائے ۔

لاہور سے نامہ نگار عبادالحق نے بتایا کہ وزیرِ دفاع کا کہنا تھا کہ ’ایک بیوروکریٹ کو کھڑے کھڑے فارغ نہیں کرسکتے ہیں، آپ کو پہلے انھیں الزامات کی فہرست دینا ہوتی ہے وہ اس کا جواب وہ دیں گے اس کے بعد تحقیقات ہوگی اور اس کے بعد ہی ان کے خلاف کوئی کارروائی کی جاسکتی ہے‘۔

انھوں نے کہا کہ ’جو کچھ بھی ہوا ہے اس کی تفصیلات کا جب تک پتہ نہیں چلے گا اس وقت تک کوئی بھی نتیجہ اخد نہیں کیا جاسکتا ہے‘۔

انھوں نے کہا ’جب تک حسین حقانی کی یہ تمام معلومات آئیں گی کہ اگر انھوں نے کہا ہے تو کیوں کہا ہے وہ ساری تفصیلات دیں گے اس کے بعد ہی نتجہ نکالا جاسکتا ہے‘۔

ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ ’جہاں تک منصور اعجاز کا تعلق ہے تو وہ ایک سازشی آدمی ہے اور پہلے بھی اس طرح کے کام کرتے رہے ہیں‘۔

احمد مختار نے کہا کہ پاکستانی سیاست میں آئندہ دو چار ماہ خاصے مشکل ہیں تاہم بقول ان کے ملک میں مارشل لا لگنے کا کوئی امکان نہیں ہے۔

نواز شریف کی جانب سے خفیہ خط کی تحقیقات نہ کروانے کی صورت میں سپریم کورٹ رجوع کرنے کے اعلان پر وزیر دفاع نے کہا کہ اگر کوئی شخص دھمکی دیتا ہے کہ وہ سپریم کورٹ جاسکتا ہے تو وہ ان کا حق ہے۔