حقانی: دفاع کے لیے فیض کا سہارا

حسین حقانی تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service

امریکی حکومت کے نام متنازعہ مراسلے کی وضاحت کے لیے طلب کیے گیے واشنگٹن میں پاکستان کے سفیر حسین حقانی نے پاکستان کی سرزمین پر قدم رکھتے ہی سماجی رابطے کی ویب سائیٹ ٹویٹر پر اپنے دفاع میں اشعار بھیجے ہیں۔

اتوار کی صبح پاکستانی وقت کے مطابق پونے سات بجے حسین حقانی نے ٹویٹر پر اپنے پیغام میں فیض احمد فیض کی مشہور غزل ‘تم آئے ہو، نہ شبِ انتظار گزری ہے’ کا یہ شعر لکھا ہے۔

جنوں میں جتنی بھی گزری بکار گزری ہے

اگرچہ دل پہ خرابی ہزار گزری ہے

اگلے ہی پیغام میں انہوں نے افتخار عارف کی غزل ’حامی بھی نہ تھے منکرِ غالب بھی نہیں تھے‘ کا یہ شعر تحریر کیا ہے۔

مٹی کی محبت میں ہم آشفتہ سروں نے

وہ قرض اتارے ہیں جو واجب بھی نہیں تھے۔

ساتھ ہی ٹویٹر پر ان کو فالو کرنے والوں سے بھی ان کی بحث ہورہی ہے۔

ایک شخص نے ان سے پوچھا’ کیا یہ سچ ہے کہ حسین حقانی نے سن 2000 میں پاکستانی اخبار دی نیوز میں ایک کالم لکھا تھا جس میں انہوں نے لشکر طیبہ سے کہا تھا کہ وہ بنگلور آئی ٹی سیکٹر پر حملہ کریں‘۔

حسین حقانی نے جواب میں مسکراتے چہرے والی علامت کے ساتھ جواب دیا ہے ’جی نہیں۔ میں نے صرف یہ سوال اٹھایا تھا کہ اگر انہوں نے ایسا کیا تو اسکے کیا نتائج ہوسکتے ہیں۔‘

ایک اور شخص عمر طارق نے جذباتی انداز میں لکھا کہ ‘میں امید کرتا ہوں کہ کوئی جنرل بھی کسی دن ٹی وی پر آکے روئے اور سویلین قبرستانوں میں دفن اپنے مرحوم رشتے داروں کا ذکر کرکے اپنی حب الوطنی ثابت کرے گا‘۔

حسین حقانی نے ان کے اس پیغام کو ری ٹویٹ کیا ہے۔ یعنی انہوں نے اس پیغام پر پسندیدگی کا اظہار کیا ہے۔

ایک اور صاحب نے حسین حقانی کے حق میں یہ پیغام لکھا ہے کہ مجھے یہ توقع نہیں ہے کہ حسین حقانی کا اس میمو سے کوئی تعلق ہے۔

انھوں نے حسین حقانی کے لیے دعا کرتے ہویے کہا کہ’اللہ آپ کی مدد کرے‘۔

مسٹر حقانی ’جو بظاہر اپنی بقاء کی جنگ لڑرہے ہیں‘ کے پیغامات سے صاف ظاہر ہے کہ انھیں اپنے اوپر لگائے جانے والے الزامات اور ان کی بنیاد میں وضاخت کے لیے اسلام آباد طلب کیے جانے پر شکایت ہے۔‘

ظاہر ہے انہوں نے اپنے ان پیغامات میں تو یہ نہیں بتایا کہ انہیں یہ شکوہ کس سے ہے لیکن انہوں نے ان اشعار کے ذریعے اپنا مافی الضمیر ضرور بتانے کی کوشش کی ہے۔

اسی بارے میں