باڑہ: چھ افراد کی لاشیں برآمد

خیبر ایجنسی کی ایک فائل تصویر تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption حالیہ دنوں میں خیبر ایجنسی میں تشدد کے واقعات میں اضافہ ہوا ہے

پاکستان کے قبائلی علاقے خیبر ایجنسی میں حکام کا کہنا ہے کہ انہیں چھ افراد کی لاشیں برآمد ہوئی ہیں جن کے بارے میں کہا جارہا ہے کہ وہ مبینہ شدت پسند ہوسکتے ہیں۔

خیبر ایجنسی کے ایک اہلکار نے پشاور میں بی بی سی کے نامہ نگار رفعت اللہ اورکزئی کو بتایا کہ یہ لاشیں اتوار کی صبح باڑہ بازار سے تقریبا دس کلومیٹر دور قمبر آباد کے علاقے میں سڑک کے کنارے سے ملی ہیں۔

انہوں نے کہا کہ مرنے والے افراد کے جسم پر چوٹوں کے نشانات ہیں جس سے بظاہر لگتا ہے انہیں تشدد کر کے مارا گیا ہے۔

عینی شاہدین کا کہنا ہے کہ ہلاک ہونے والے افراد میں چار کا تعلق ملک دین خیل اور دو کا سپاہ قبیلے سے بتایا جاتا ہے۔ بعض سرکاری اہلکاروں کے مطابق یہ افراد سکیورٹی فورسز کی ایک کاروائی کے دوران مارے گئے ہیں۔

تاہم مرنے والے افراد کے رشتہ داروں کا دعوٰی ہے کہ ان افراد کو پہلے گرفتار کیا گیا اور بعد میں انھیں ایک ایک کر کے ہلاک کیا گیا۔ لیکن سرکاری طورپر اس دعوے کی تصدیق نہیں ہوسکی۔

خیال رہے کہ باڑہ سب ڈویژن کے حدود میں کچھ عرصہ سے سکیورٹی فورسز پر حملوں اور تشدد کے دیگر واقعات میں اضافہ ہو رہا ہے۔

یہ واقعات ایسے وقت ہو رہے ہیں جب تقریبا ایک ماہ قبل ہی سکیورٹی فورسز نے باڑہ کے کچھ علاقوں میں شدت پسند تنظیموں کے خلاف ایک بڑے آپریشن کا آغاز کردیا تھا۔

اس آپریشن کی وجہ سے متاثرہ علاقوں سے تیس ہزار کے قریب بے گھر افراد نے جلوزئی مہاجر کیمپ میں پناہ لے رکھی ہے۔

بتایا جاتا ہے کہ جلوزئی کیمپ میں بنیادی سہولیات کے فقدان کے باعث متاثرین کئی قسم کے مشکلات کا بھی شکار ہیں جبکہ دو تین مرتبہ بے گھر افراد نے اس سلسلے میں احتجاج بھی کیا ہے۔

یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ حالیہ کاروائی سے پہلے بھی باڑہ اور اطراف کے علاقوں میں گزشتہ تین چار سالوں سے شدت پسندوں کے خلاف غیر اعلانیہ کاروائیوں کا سلسلہ جاری رہا۔ تاہم حکومت کی تمام تر دعوؤں کے باوجود بھی یہ علاقے عسکریت پسندوں سے مکمل طور پر صاف نہیں کرائے جاسکے۔

اسی بارے میں