چمالنگ: چودہ ایف سی اہلکار ہلاک، دس زخمی

بلوچ مذاحمت کار تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption بلوچ مذاحمت کار چمالنگ میں کوئلے کے ذخائر پر حکومتی منصوبوں کے خلاف ہیں۔

پاکستان کے صوبہ بلوچستان کے علاقے چمالنگ میں فرنٹیئیر کور اور شدت پسندوں کے درمیان اتوار سے جاری جھڑپ میں ایک میجر سمیت چودہ سکیورٹی اہلکار ہلاک اور دس زخمی ہو گئے ہیں۔

کوئٹہ میں ایف سی کے ترجمان مرتضٰی بیگ کے بقول ہلاک ہونے والوں میں سے زیادہ تر کا تعلق صوبہ پنجاب اور خیبر پختونخوا سے تھا۔

انھوں نے ہمارے نامہ نگار ایوب ترین کو بتایا کہ زخمیوں کو فوری طور پر بذریعہ ہیلی کاپٹر صوبائی دارالحکومت کوئٹہ منتقل کر دیا گیا جبکہ ہلاک ہونے والوں کی لاشیں پنجاب اور خیبر پختونخوا روانہ کر دی گئیں ہیں۔

تاہم واقعے کے بعد ایف سی نے شدت پسندوں کی تلاش کے لیے علاقے میں سرچ آپریشن شروع کیا ہے جو اب تک جاری ہے۔

واضح رہے کہ اتوار کے روز لورالائی کے علاقے چمالنگ میں اس وقت فرنٹیئیر کور اور بلوچ مزاحمت کاروں میں جھڑپوں کا آغاز ہوا جب بلوچ مزاحمت کاروں کے ایک گروپ نے ایف سی کے کیمپ پر راکٹوں سے حملہ کر دیا۔ تاہم ایف سی نے جوابی کارروائی میں کئی مزاحمت کاروں کو ہلاک کرنے کا دعوٰی کیا ہے۔

بلوچ لیبریشن آرمی کے ترجمان نے ان حملوں کی ذمہ داری قبول کرتے ہوئے دعوٰی کیا ہے کہ انہوں نے ایف سی کے چالیس کے قریب اہلکاروں کو ہلاک اور کئی گاڑیوں اور مشینری کو نقصان پہنچایا ہے۔

دوسری جانب بلوچ نیشنل وائس کے ترجمان کا کہنا ہے کہ بلوچ مزاحمت کاروں اور ایف سی کے درمیان جھڑپوں کے بعد سکیورٹی فورسز نے علاقے میں سرچ آپریشن شروع کر کے درجنوں افراد کو حراست میں لے لیا ہے۔

خیال رہے کہ چمالنگ کا علاقہ کوئلے کے ذخائر سے مالا مال ہے اور یہاں دو ہزار سات میں پرویز مشرف کے دورِ حکومت میں ایک منصوبے کا آغاز ہوا تھا جس کی بلوچ آزادی پسند گروپوں نے مخالفت کی تھی۔

اسی بارے میں