حکومتی محکمے نادہندہ

تصویر کے کاپی رائٹ bbc

پاکستان کے وفاقی وزیر پانی و بجلی سید نوید قمر نے پیر کو قومی اسمبلی کو بتایا کہ انٹیلی جنس ایجنسیز اور سیکورٹی ایجنسیز سمیت وفاقی اور چاروں صوبائی حکومتیں ستر ارب روپے سے زیادہ رقم کے بجلی کے بلوں کے نادہندہ ہیں۔

وقفہ سوالات کے دوران رکن اسمبلی صلاح الدین کے سوال کے جواب میں انہوں نے بتایا کہ اسلام آباد میں بجلی فراہم کرنے والے ادارے نے پونے ستائیس ارب روپے نجی صارفین سے رقم وصول کی ہے جبکہ سوا سات ارب روپے سے زیادہ انہوں نے سرکاری صارفین سے واجبات وصول کیے ہیں۔

اسلام آباد میں بی بی سی کے نامہ نگار اعجاز مہر کے مطابق قومی اسمبلی کی لائبرری میں کئی سو صفحات پر مشتمل جو نادہندگاں کی فہرست رکھی گئی ہے اس میں سب سے بڑا ڈیفالٹر ریلوے ہے جس کے ذمے پونے بیالیس کروڑ روپے سے زیادہ رقم واجب ہے۔

فہرست کے مطابق چیئرمین سینیٹ کے ذمے چار کروڑ پچانوے لاکھ روپے کے واجبات ہیں، جبکہ چیف کمشنر اسلام آباد پونے دو کروڑ روپے سے زائد، فرنٹیئر کور تقریبا سوا تین کروڑ اور وفاقی پولیس تقریبا دو کروڑ روپے کے نادہندہ ہیں۔

حکومت کے مطابق آئی ایس آئی کے ذمہ سوا بیاسی لاکھ، انٹیلی جنس بیورو سوا ستائیس لاکھ، ایف آئی اے تراسی لاکھ سے زیادہ ، پنجاب پولیس پونے چودہ کروڑ روپے سے زیادہ اور سپریم کورٹ پونے پینتیس لاکھ روپے کے ڈیفالٹر ہیں۔

سندھ رینجرز ساڑھے تقریبا سات کروڑ، پنجاب رینجرز سوا پانچ کروڑ، کوسٹ گارڈز پونے چھیاسٹھ لاکھ، وفاقی وزارء دفاتر اور مکانات ساڑھے پچاسی لاکھ، پارلیمینٹ لاجز ایک کروڑ اور کابینہ ڈویزن انتالیس لاکھ روپے سے زیادہ بجلی کے نادہندہ ہیں۔

سید نوید قمر نے ایوان کو بتایا کہ تین مغربی دریا انڈس، جہلم اور چناب پر بھارت تاحال پینتالیس ہائیڈرو الیکٹرک پاور کے منصوبے بنا چکا ہے جبکہ گیارہ مزید زیر تعمیر ہیں۔ ان کے بقول اس سے پاکستان کا صفر اعشاریہ دو ملین ایکڑ فٹ پانی کم ہوگیا ہے۔

ایک اور سوال کے جواب میں انہوں نے بتایا کہ موجودہ حکومت کے دور میں تاحال تین ہزار سات سو دس میگا واٹ اضافی بجلی پیدا کی گئی ہے اور وہ سسٹم میں آچکی ہے۔