کرّم:سکیورٹی آپریشن، گیارہ شدت پسند ہلاک

سکیورٹی فورسز تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption پاکستانی سکیورٹی فورسز نے شدت پسندوں کے ٹھکانوں کو توپخانے اور گن شب ہیلی کاپٹروں سے نشانہ بنایا۔

پاکستان کے قبائلی علاقے کُرم ایجنسی میں حکام کے مطابق سکیورٹی فورسز کی ایک تازہ کاروائی میں گیارہ شدت پسند ہلاک جبکہ دس زخمی ہوئے ہیں۔

کُرم ایجنسی میں ایک سرکاری اہلکار کے مطابق کہ صدہ سے پچیس کلومیٹر دور مشرق کی جانب وسطی کُرم کے علاقے ماسوزئی اور علی شیرزئی میں سکیورٹی فورسز نے شدت پسندوں کے خلاف کاروائی کی گئی ہے جس میں گیارہ شدت پسند ہلاک جبکہ دس زخمی ہوئے ہیں۔

انہوں نے نامہ نگار دلاورخان وزیر کو بتایا کہ یہ کاروائی رات گئے شروع کی گئی تھی اور پیر کے روز بھی جاری رہی۔ اہلکار کا کہنا تھا کہ بعض علاقوں میں قومی امن لشکر کے رضاکاروں کو سکیورٹی فورسز کی مدد بھی حاصل ہے جس کی وجہ سے اکثر علاقوں سے شدت پسندوں کو نکال لیا گیا ہے۔

انہوں نے مذید بتایا کہ شدت پسندوں کے خلاف جاری کاروائی میں سولہ سو مسلح اہلکار حصہ لے رہے ہیں۔ جس میں فوج، ٹوچی سکاؤٹس اور کُرم ملیشا کے اہلکار شامل ہیں۔

اہلکار کے مطابق شدت پسندوں کے خلاف یہ کاروائی وسطی کُرم کے مختلف علاقوں نیکہ زیارت، درگئی، تالی کلے، پخہ کلے اور مُرغان میں پندرہ نومبر سے شروع کی گئی ہے جس میں اب تک پچاس کے قریب لوگ ہلاک ہوچکے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہلاک ہونے والوں میں چالیس کے قریب شدت پسند، پانچ عام شہری اور دو سکیورٹی فورسز کے اہلکار شامل ہیں۔

دوسری جانب مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ علی شیرزئی اور ماسوزئی کے پہاڑی سلسلوں میں اب بھی شدت پسندوں کے ٹھکانے موجود ہیں۔

اہلکار نے بتایا کہ تازہ کاروائی میں سکیورٹی فورسز کو توپخانے اور گن شپ ہیلی کاپٹروں کے علاوہ تین ٹینکوں کی بھی مدد حاصل ہیں۔

واضح رہے کہ کُرم ایجنسی کے مختلف علاقوں میں سکیورٹی فورسز نے شدت پسندوں کے خلاف کئی بار کاروائی کی ہے جس کی وجہ سے ہزاروں لوگوں نے اپنے علاقوں سے نقل مکانی کرکے خیبر پختونخوا کے مختلف شہروں میں منتقل ہوگئے ہیں۔

اس تازہ کاروائی سے دو مہینے پہلے بھی ماسوزئی اور علی شیرزئی کے مختلف علاقوں میں سکیورٹی فورسز نے شدت پسندوں کے خلاف کاروائی کی تھی جس میں انہوں نے یہ دعوٰی کیا تھا کہ تمام علاقوں کو شدت پسندوں سے صاف کردیا ہے۔

اسی بارے میں