بھارت سے تجارت، فوج کو تحفظات

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service

بھارت کو تجارت کی غرض سے پسندیدہ ترین ملک کا درجہ دینے کے حکومتی فیصلے کے بارے میں پاکستانی فوج نے تحفظات کا اظہار کیا ہے جنہیں اعلیٰ ترین سطح پر حکومت تک پہنچا دیا گیا ہے۔

حکومت اور فوجی قیادت کے درمیان اس موضوع پر ہونے والے روابط سے آگاہ ایک سینئر اہلکار کے مطابق عسکری ماہرین کا کہنا ہے کہ بھارت کے ساتھ ان نئے تجارتی روابط کو افغانستان کی صورتحال کے پس منظر میں دیکھنے کی ضرورت ہے۔

فوجی ماہرین کے مطابق بھارت کے لیے پسندیدہ ترین ملک کا درجہ افغانستان کے بارے میں پاکستان کی سیکیورٹی پالیسی سے مطابقت نہیں رکھتا۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ فوجی ماہرین نے سیاسی قیادت کو مشورہ دیا ہے کہ وہ بھارت کے ساتھ خاص طور پر تجارتی معاملات میں جلد بازی سے گریز کرے۔

یاد رہے کہ پاکستانی کابینہ نے دو ہفتے قبل بھارت کو تجارت میں پسندیدہ ترین ملک (ایم ایف این) کا درجہ دینے کی منظوری دے دی تھی جسے فوری طور پر نافذالعمل بھی قرار دے دیا گیا تھا۔

چند روز بعد وزیراعظم یوسف رضا گیلانی نے وضاحتی بیان میں کہا کہ بھارت کو پسندیدہ ملک کا درجہ دینے کے فیصلے پر پارلیمنٹ کی منظوری کے بغیر عمل نہیں کیا جائے گا۔

یہاں یہ بات قابل ذکر ہے کہ کسی بھی بڑی سیاسی جماعت یا راہنما کی طرف سے بھارت کو یہ درجہ دینے کی علی اعلان مخالفت نہیں کی گئی۔

عوامی مسلم لیگ کے سربراہ اور راولپنڈی سے سابق رکن قومی اسمبلی شیخ رشید احمد ان سیاسی راہنماؤں میں شامل ہیں جو بھارت کے ساتھ تیزی سے فروغ پاتے ان تجارتی اور سفارتی روابط اور خاص طور پر پسندید ترین ملک کے درجے کی مخالفت کرتے ہیں۔

’یہ صرف تجارت کی بات نہیں ہے۔ بھارت کو پسندیدہ ملک کا درجہ دینا ایک سیاسی معاملہ ہے اور حکومت اس معاملے پر جتنی پھرتی دکھا رہی ہے اس سے لگتا ہے کہ یہ سب کسی ایجنڈے کے تحت کیا جا رہا ہے۔‘

شیخ رشید کے بقول پاکستان اور بھارت کے درمیان تجارت کا فروغ اور بھارت کو پسندید ملک قرار دینا دو مختلف باتیں ہیں اور حکومت کو اس بارے میں پیش رفت سے پہلے پارلیمنٹ اور دیگر قومی اداروں کو اعتماد میں لینا چاہئے۔

ماہر معیشت ڈاکٹر شاہد حسن کے مطابق پاکستان کے ساتھ تجارت بھارت کے لیے معاشی طور پر اہمیت نہیں رکھتا۔

’بھارت کے ساتھ پسندیدہ ملک کے تجارتی روابط استوار ہونے اور دونوں ملکوں کے درمیان تجارتی اہداف کے حصول کے باوجود پاکستان کے ساتھ تجارت بھارت کی مجموعی تجارت کا ایک فیصد سے زیادہ نہیں ہو گا۔ ایسے میں سوچنے کی بات یہ ہے کہ بھارت یہ درجہ حاصل کرنے پر کچھ عرصے سے اتنا زور کیوں دے رہا ہے۔‘

ڈاکٹر شاہد حسن کا کہنا ہے کہ بھارت کو افغانستان تک رسائی کے لیے پاکستان کی جانب سے اس درجے کی ضرورت ہے۔

’پاکستان اور افغانستان کے درمیان ٹرانزٹ ٹریڈ ایگریمنٹ میں ایک شق شامل کی گئی ہے کہ بعد میں بھارت کو بھی اس معاہدے میں شامل کیا جا سکتا ہے۔ اگر ایم ایف این اسٹسیٹس کے معاملے کو اس معاہدے کے ساتھ ملا کر پڑھیں تو سارے عزائم سامنے آ جاتے ہیں۔‘

افغانستان کے بارے میں پاکستان کی دفاعی اور خارجہ پالیسی پر اثر انداز ہونے والی فوجی اسٹیبلشمنٹ کا خیال ہے کہ افعانستان سے امریکی انخلاء کے بعد وہاں سیاسی اور تجارتی مواقع کے حصول میں پاکستان اور بھارت کے درمیان مقابلہ جاری ہے، ایسے میں اپنے فریق مخالف کو اپنے ہی اوپر سبقت لے جانے کا موقع فراہم کرنا، دانشمندی نہیں ہو گی۔