بلوچستان: تین لاپتہ افراد کی لاشیں برآمد

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption ہلاک ہونے والوں کے سراور سینے میں گولیاں لگی ہیں

بلوچستان کے محتلف علاقوں سےگزشتہ دو دنوں میں تین لاپتہ افراد کی مسخ شدہ لاشیں ملی ہیں جن کی شناحت ہوگئی ہے۔

پسنی کے علاقے ’ کلگ کلانچ‘ سے اتوار کومقامی لیویز کو دو افراد کی مسخ شدہ لاشیں ملیں جنہیں فوری طور پر مقامی ہسپتال منتقل کردیاگیا۔

کوئٹہ سے بی بی سی کے نامہ نگارایوب ترین کے مطابق ہلاک ہونے والوں کے سراور سینے میں گولیاں لگی تھیں۔

مقامی لیویز کا کہنا تھا کہ دونوں نوجوانوں کی جیب سے ایک پرچی برآمد ہوئی جس سے ان کی شناخت ملاعبدالخالق اور زاہد حسین دشتی کے نام سے ہوئی۔ عبدالخالق گوادر جبکہ زاہد حسین زرین تربت کے رہائشی تھے۔

دونوں نوجوانوں کوتین ماہ قبل نامعلوم مسلح افراد نے مختلف علاقوں سے اغواء کیا تھا جنہیں بعد میں سر اور سینے میں گولیاں مار کر ہلاک کیاگیا۔

لیویز نے ضروری کارروائی کے بعد لاشیں ورثاء کے حوالے کردیں۔

ہفتے کے روز کوئٹہ سے اغواء ہونے والے ایک اور نوجوان فدامحمد شاہ کی لاش کچلاک سے برآمد ہوئی۔

بلوچ قوم پرستوں کے مطابق ایک سال سے زیادہ عرصے میں تین سو سے زیادہ لاپتہ افراد کی مسخ شدہ لاشیں مل چکی ہیں۔

اسی بارے میں