سندھ: پانچواں وزیر اطلاعات مطلوب ہے

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption کسی دباؤ میں آ کر استعفٰی نہیں دیا اور نہ ہی پارٹی نے مجھ سے استعفٰی مانگا تھا:شرجیل میمن

شرجیل میمن کے استعفٰے کے بعد سندھ میں وزارتِ اطلاعات کے قلمدان کے لیے کئی امیدوار وزیرِ اعلٰی ہاؤس کے چکر لگا رہے ہیں۔

آج کے اس دور میں جب ملک میں میڈیا انتہائی اہمیت اختیار کرچکا ہے اور درجنوں ٹی چینل اوراخبارات بازار میں موجود ہیں پیپلزپارٹی کی جانب سے پالیسی میں تسلسل نہ ہونا اس کے لیے کتنے نقصان دہ ہوسکتا ہے۔

شرجیل میمن پیپلزپارٹی کی سندھ حکومت کے چوتھے وزیرِ تھے جن کے پاس اطلاعات کا قلمدان تھا جنہیں گزشتہ ہفتے ذوالفقار مرزا کے ساتھ لندن جانے کی پاداش میں اپنے عہدے سے مستعٰفی ہونا پڑاتھا۔

اس سے پہلے سندھ میں وزارتِ اطلاعات کا قلم دان شرمیلا فاروقی جمیل سومرو اور شاذیہ مری کے پاس رہ چکا ہے۔

شاذیہ مری پہلی وزیرِ اطلاعات تھیں جنہیں پارٹی کی داخلی سیاست کی وجہ سے وزیر اطلاعات کا عہدہ چھوڑنا پڑا تھا جبکہ شرمیلا فاروقی کے پاس مشیر اطلاعات کا عہدہ تھا جنہیں عدالت کے فیصلے کے بعد کہ مشیر کے پاس کوئی وزارت نہیں ہوسکتی یہ عہدہ چھوڑنا پڑا تھا۔

ساڑھے تین سال کے عرصے میں صوبہ سندھ میں وزارتِ اطلاعات چار مختلف افراد کے پاس رہی ہے۔

آخر کیا وجہ ہے کہ پیپلزپارٹی کو اس عہدے کے لیے کوئی ایسا شخص نہیں مل پارہا جو تسلسل کے ساتھ پالیسی لے کر چلے اور حکومت کا موقف میڈیا کے ذریعے عوام تک پہنچا سکے۔

اس بارے میں سینیئر سیاسی تجزیہ کار علی قاضی کا کہنا ہے کہ کسی وزیر کےآنےجانےسے کسی جماعت کی سیاسی ساکھ کو عموماَ َ نقصان نہیں پہنچتا لیکن وزیر اطلاعات کے معاملے میں پاکستان میں روایتی طور پر مسئلہ یہ ہوتا جو وزیر اطلاعات بن جاتا ہے وہ یہ سمجھتا ہے کہ وہ میڈیا کا مالک ہوگیا ہے اور حکومت کے موقف کو پہنچانے اور میڈیا مینجمنٹ کرنے کے بجائے وہ اپنی ذات کی ترویج میں زیادہ مصروف ہوجاتا ہے جس سے حکومت کو نقصان ہوتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ ہمارے یہاں کارکردگی پر کسی وزیر کو نہ رکھا جاتا ہے نہ ہٹایا جاتا ہے ، کابینہ میں جو بھی تبدیلی ہوتی ہے وہ صرف اور صرف سیاسی بنیاد پر ہی ہوتی ہے۔

علی قاضی کا کہنا تھا کہ سول سوسائٹی کے کئی اداروں کے ساتھ اس حکومت کے معاملات خراب ہوئے ہیں اور میڈیا بھی ان میں سے ایک ہے اس لیے ممکن ہے کہ آنے والے انتخابات کے نتائج پر اس کا اثر پڑے مگر میڈیا کو بھی بدلہ لینے کے بجائے اپنا کام پیشہ ورانہ انداز میں کرنا چاہیے۔

پیپلزپارٹی کی سندھ حکومت کی تیسری مشیرِ اطلاعات شرمیلا فاروقی نے کہا کہ صرف صوبے ہی میں نہیں مرکز میں بھی دو مرتبہ وزارتِ اطلاعات کا قلمدان تبدیل ہوچکاہے کیونکہ جب بھی سیاسی جماعتیں اقتدار میں ہوتی ہیں ان کی قیادت اس وقت کی مناسبت سے فیصلہ کرتی ہے۔

تاہم ان کا کہنا تھا کہ میڈیا کو ہینڈل کرنا اس وقت بہت مشکل کام ہے اور یہ ایسا کام ہے جس کا صلہ بھی نہیں ملتا، کیونکہ میڈیا کو قابو میں تو نہیں کیا جاسکتا۔ ہم جو بھی کرلیں وہ کافی نہیں ہوتا اور میڈیا کا کوئی ضابطہ اخلاق بھی موجود نہیں ہے ، سب دیکھتے ہیں کہ کس قسم کی ’بریکنگ نیوز‘ چلائی جارہی ہیں، کسی چینل کے لیے تو کھمبے پر بلب نہ ہونا بھی بریکنگ نیوز ہے۔

انہوں نے کہا کہ ہم ٹی وی چینلز کے پروگرامز میں جاتے ہیں اور اپنے اوپر ہونے والی تنقید خندہ پیشانی سے برداشت کرتے ہیں۔

شرمیلا فاروقی نے اس بات سے اتفاق نہیں کیا کہ بار بار وزیر اطلاعات کی تبدیلی کی وجہ سے حکومت کی پالیسی میں تسلسل کا نہ ہونا ہے۔

انہوں نے کہا کہ میڈیا کو ہینڈل کرنے کا کوئی باضابطہ طریقہ نہیں اور پیپلزپارٹی میڈیا کی آزادی پر یقین رکھتی ہے۔

اسی بارے میں