مردان: لڑکیوں کے سکول کے باہر دھماکہ

فائل فوٹو
Image caption مردان میں لڑکیوں کے سکولوں پر حملوں میں اضافہ ہوا ہے۔

صوبہ خیبر پختونخواہ کے ضلع مردان میں لڑکیوں کے ایک سکول کے باہر ہوئے ایک دھماکے میں ایک پولیس اہلکار ہلاک اور آٹھ افراد زخمی ہو گئے ہیں۔

مردان میں پولیس اہلکار پیر محمد نے بی بی سی کے نامہ نگار دلاورخان وزیر کو بتایا کہ منگل کی صبح سات بجے کے قریب شہر کے شمال میں واقع لڑکیوں کے ایک ہائیر سکنڈ ائیری سکول کے باہر اس وقت ایک زودار دھماکہ ہوا جب پولیس اہلکار معمول کی سکیورٹی چیکنگ کے لیے سکول کے مین گیٹ پر پہنچ گئے تھے۔

انہوں نے بتایا کہ دھماکے میں ایک پولیس اہلکار اللہ نواز ہلاک جبکہ آٹھ افراد زخمی ہوئے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ زخمی ہونے والوں میں تین پولیس اہلکار اور پانچ راہ گیر شامل ہیں۔ انہوں نےبتایا کہ نامعلوم افراد نے سکول کے مرکزی دروازے سے کچھ فاصلے پر بارود مواد نصب کیا تھا۔

پولیس کے مطابق طالبات نے ابھی سکول آنا شروع نہیں کیا تھا اس لیے وہ محفوظ رہیں۔ انہوں نے کہا کہ اس واقع کے بعد پولیس کی بھاری نفری علاقے میں پہنچ گئی ہے اور قریبی علاقے میں تلاشی بھی لی گئی لیکن ابھی تک کسی قسم کی گرفتاری عمل میں نہیں آئی ہے۔

اہلکار کے مطابق سکول کے ارد گرد پولیس کی نفری موجود ہیں اور دھماکے کی خوف سے کوئی بھی لڑکی سکول نہیں پہنچی ہے۔ سکول مکمل طور بند ہے۔

یاد رہے کہ مردان میں کچھ عرصے سے لڑکیوں کے سکولوں پر حملوں میں اضافہ ہوا ہے۔ عیدالضحٰی کے بعد مردان کی تحصیل ڈھیری میں لڑکیوں کے ایک ہائی سکول میں تین دھماکے کرکے سکول کو مکمل طور پر تباہ کردیا تھا۔

مردان میں اس قبل گجرات گاؤں اور مٹی بانڈہ کے علاقے میں قائم گرلز مڈل سکولوں کو بم حملوں کا نشانہ بنایا تھا جس سے دونوں سکول تباہ ہوگئے تھے۔

اسی بارے میں