شاہ محمود کی ’ہاں‘ کا انتظار

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption دوبئی قیام کے دوران شاہ محمود قریشی کی چند سابق مسلم لیگیوں سے ملاقات کا بھی چرچا رہا ہے

پاکستان کے سابق وزیرِخارجہ شاہ محمود قریشی وہ وی آئی پی سیاستدان ہیں جن کی اپنی پارٹی میں شمولیت کی خواہش جہاں ایک طرف مسلم لیگ نون کے صدر نواز شریف نے کی ہے وہیں تحریکِ انصاف کے سربراہ عمران خان نے تو یہ اعلان تک کرڈالا کہ وہ تحریکِ انصاف میں شامل ہونے والے ہیں۔

شاہ محمود قریشی ایک جہاندیدہ سیاستدان ہیں اور وہ اپنے پتے وقت پر کھیلنے کے قائل ہیں اسی لیے ابھی تک ان کی جانب سے ایسا کوئی بیان سامنے نہیں آیا جس سے یہ تاثر مل سکے کہ ان کا رجحان کس سیاسی جماعت کی جانب ہے۔

شاہ محمود قریشی پیپلز پارٹی سے علیحدگی کے بعد دونوں سیاسی رہنماؤں یعنی نواز شریف اور عمران خان سے رابطے میں ہیں۔ملاقاتیں ہوچکی ہیں اور اگر کوئی بات التواء میں ہے تو وہ قریشی صاحب کی ’ہا ں‘ ہے۔

مبصرین کا کہنا ہے کہ شاہ محمود قریشی کسی بھی پارٹی میں جانے کا اعلان شائد ستائیس نومبر کوگھوٹکی کے جلسے میں کریں گے۔

شاہ محمود قریشی صرف مسلم لیگ نون اور تحریک انصاف سے ہی رابطے میں نہیں ہیں بلکہ کئی دوسری جماعتوں سے بھی ہیں۔ دوبئی قیام کے دوران شاہ محمود قریشی کی چند سابق مسلم لیگیوں سے ملاقات کا بھی چرچا رہا ہے۔

صوبہ سندھ کے سابق وزیرِاعلی غلام ارباب رحیم خان کا کہنا ہے کہ شاہ محمود قریشی سے ان کی دوبئی میں ملاقات تو ہوئی ہے لیکن ابھی وہ خود کسی جماعت میں شامل ہونے کا فیصلہ نہیں کر پائے تو ان سے اتحاد کی بات کرنا قبل از وقت ہے۔

غلام ارباب رحیم نے ایک سندھی ٹیلی ویژن چینل سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ وہ چاہتے ہیں کہ سندھ میں پیپلز پارٹی مخالف طاقتوں کو اکٹھا کیا جائے اور شاہ محمود قریشی سے ان کی ملاقات بھی اسی تناظر میں ہوئی تھی۔

واضح رہے کہ شاہ محمود قریشی ریمنڈ ڈیوس کیس پر اپنی پارٹی قیادت سے اختلاف کے بعد وزرات خارجہ کے عہدے سے ہٹائے گئے تھے اور بعد میں وہ پارٹی کی رکنیت سے بھی مستعفی ہوگئے۔

ریمنڈ ڈیوس رہا ہو کر امریکہ جا بھی چکے لیکن جاتے جاتے وہ پاکستانیوں کو ایک ایسا انوکھا سیاست دان دے گئے جسے اپنی پارٹی میں لینے کے لیے کئی بڑے سیاستدان بے تاب ہیں۔

اسی بارے میں