تھانے پر حملہ، دو اہلکار ہلاک

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption پولیس نے جوابی کاروائی کی تو شدت پسند بھاگنے میں کامیاب ہوگئے

پاکستان کے صوبہ خیبر پختونخوا کے جنوبی ضلع ڈیرہ اسماعیل خان میں پولیس کا کہنا ہے کہ ایک تھانے پر راکٹوں اور دستی بموں کے حملے میں دو پولیس اہلکار ہلاک جبکہ تین زخمی ہوگئے ہیں۔

ڈیرہ اسماعیل خان میں ایک پولیس اہلکار عبدالرشید نے بی بی سی کو بتایا کہ یہ حملہ بدھ کی صُبح پانچ بجے کے قریب شہر سے بیس کلومیٹر دور واقع تھانہ دربن کلاں پر کیا گیا۔

اہلکار کے مطابق نامعلوم مُسلح حملہ آوروں نے تھانے پر راکٹ داغے اور دستی بم پھینکے جس کے نتیجے میں تھانیدار ہلاک جبکہ ایس ایچ او سمیت چار اہلکار زخمی ہوئے۔ بعد ازاں زخمیوں میں سے ایک اہلکار نے ہسپتال میں دم توڑ دیا۔

ان کا کہنا تھا کہ مُسلح شدت پسندوں نے پہلے تھانے پر چھوٹے ہتھیاروں سے حملہ کیا اور بعد میں تھانے کے بڑے دروازے کو راکٹ لانچر سے نشانہ بنایا۔ انہوں نے بتایا کہ راکٹ فائر کرنے کے بعد تھانے میں ایک زودرار دھماکہ ہوا اور اس کے بعد شدت پسند تھانے کے اندر داخل ہوئے۔

پولیس اہلکار نے بتایا کہ پولیس نے جوابی کاروائی کی تو شدت پسند دھوئیں کا فائدہ اُٹھاتے ہوئے بھاگنے میں کامیاب ہوگئے۔

اس واقعے کے بعد زخمیوں کو طبی امداد کے لیے ضلعی ہسپتال لے جایا گیا جہاں چند کی حالت تشویشناک بتائی جاتی ہے۔

واقعے کے فورا بعد اعلیٰ پولیس اہلکار وہاں پہنچ گئے اور تحقیقات شروع کر دی گئیں۔

بی بی سی کے نامہ نگار دلاورخان وزیر کے مطابق بعض پولیس اہلکاروں نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ پولیس تھانے پر حملہ گزشتہ روز طالبان کی جانب سے میڈیا پر چلنے والی اس بے بنیاد خبر کا ردعمل ہو سکتا ہے جس میں بتایاگیا تھا کہ طالبان نے پورے پاکستان میں فائربندی کا اعلان کیا ہے۔

یاد رہے کہ اس سے پہلے بھی ڈیرہ اسماعیل خان میں پولیس تھانوں پر حملے ہو چکے ہیں جس پولیس اہلکاروں کے علاوہ عام شہری بھی نشانہ بنے ہیں۔

اسی بارے میں