متنازع مراسلہ: پارلیمانی کمیشن پر غور

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption ’حکومت تمام اتحادیوں اور اپوزیشن کی نواز لیگ کو بھی اعتماد میں لینا چاہتی ہے‘

پاکستان میں فوج کے ہاتھوں حکومت کا تختہ الٹنے کے خدشے کے پیش نظر مبینہ طور پر سابق امریکی کمانڈر مائیک مولن کو مراسلہ بھیجنے کے الزام کی تحقیقات کے لیے حکومت پارلیمانی کمیشن بنانے پر غور کر رہی ہے۔

اعلٰی حکومتی ذرائع نے بی بی سی کو بتایا کہ حکومت کی کوشش ہے کہ متنازع مراسلے کی تحقیقات کے لیے ایسا شفاف عمل اپنایا جائے جس پر تمام سیاسی جماعتوں کا اتفاق ہو۔

دفتر خارجہ کے ایک سینیئر افسر سے جب رابطہ کیا تو انہوں نے بھی نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر کہا کہ تاحال انہیں کوئی رہنمائی یا ہدایت نہیں ملی کہ اس معاملے کی تحقیقات کون کرے گا۔

تاہم انہوں نے کہا کہ جانچ کرنے کی بات چونکہ وزیراعظم نے کی ہے اس لیے ان کے دفتر سے رجوع کریں۔

ایک وفاقی وزیر نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بی بی سی کو بتایا کہ حکومت تمام اتحادیوں اور اپوزیشن کی مسلم لیگ (ن) کو بھی اعتماد میں لینا چاہتی ہے اور جلدی میں کوئی قدم نہیں اٹھانا چاہتی۔

ایوان صدر کے ترجمان فرحت اللہ بابر سے جب تحقیقات کے متعلق دریافت کیا تو انہوں نے اپنے مختصر جواب میں کہا کہ ‘ابھی کوئی حتمی فیصلہ نہیں ہوا ہے‘۔

حکومتی ذرائع کا کہنا ہے کہ ابھی مشاورت جاری ہے اور حکومت یہ بھی دیکھنا چاہتی ہے کہ سپریم کورٹ اس بارے میں کیا فیصلہ کرتی ہے۔

ذرائع کے بقول میاں نواز شریف سمیت کچھ لوگوں نے عدلیہ سے رجوع کیا ہے اور اگر عدالت نے خود تحقیقات شروع کی تو شاید حکومت پھر پارلیمانی کمیشن تشکیل نہ دے۔

واضح رہے کہ سابق امریکی کمانڈر مائک مولن کو یہ مراسلہ امریکہ میں مقیم پاکستانی نژاد بزنس مین منصور اعجاز نے بھیجا اور ان کا دعویٰ ہے کہ ایسا انہوں نے امریکہ میں اس وقت کے پاکستانی سفیر حسین حقانی کے کہنے پر کیا ہے۔

حسین حقانی نے ان کے الزامات کو مسترد کیا اور متنازع مراسلے سے لاتعلقی ظاہر کی ہے اور منگل کو وزیر اعظم نے ان سے استعفٰی مانگ لیا تھا۔ ان کی جگہ امریکہ میں حکومت نے شیری رحمٰن کو نیا سفیر تعینات کردیا ہے۔

اسی بارے میں