متنازع خط پر نواز شریف کی پٹیشن

تصویر کے کاپی رائٹ AP

پاکستان میں حزب اختلاف کی سب سے بڑی جماعت مسلم لیگ نواز نے امریکی حکام کو لکھے گئے متنازع خط پر سپریم کورٹ میں آئینی درخواست دائر کی ہے اور اس کی فوری سماعت کے لیے استدعا کی گئی ہے۔

یہ درخواست پارٹی کے صدر میاں نواز شریف کی جانب سے دائر کی گئی ہے۔ اس درخواست میں صدر آصف علی زرداری، وفاق، آرمی چیف، آئی ایس آئی کے سربراہ کے علاوہ سیکرٹری خارجہ، امریکہ میں پاکستان کے سابق سفیر حسین حقانی اور پاکستانی نژاد امریکی شہری منصور اعجاز کو فریق بنایا گیا ہے۔

اس آئینی درخواست میں پاکستانی نژاد امریکی تاجر منصور اعجاز کے اس اخباری مضمون کا ذکر کیا گیا ہے جس میں یہ الزام لگایا تھا کہ پاکستان کے ایک اعلٰی سفارتکار نے اسامہ بن لادن کی ہلاکت کے ایک ہفتے بعد خفیہ ذرائع سے اس وقت کے امریکی فوج کے اعلٰی ترین عہدیدار کو ایک مراسلہ بھجوایا تھا۔ اس مراسلے میں پاکستانی حکومت کا تختہ الٹنے کے ممکنہ فوجی اقدام کے خطرے کے خلاف امریکی حکومت سے مدد طلب کی گئی تھی۔

بی بی سی نامہ نگار شہزاد ملک نے بتایا کہ اس درخواست میں اُس مضمون کا حوالہ بھی دیا گیا ہے جو نہ صرف غیر ملکی بلکہ پاکستانی اخبار میں بھی شائع ہوا ہے جس پر نہ تو حسین حقانی اور نہ ہی صدر آصف علی زرداری نے متعلقہ اخبارات کے خلاف ہتک عزت کا دعوٰی کیا۔ ان اخبارات کے مالکان سے اس مضمون کے شائع ہونے سے متعلق حکومت پاکستان کی جانب سے کوئی احتجاج بھی نہیں کیا گیا۔

میاں نواز شریف کی طرف سے دائر کی جانے والی اس درخواست میں کہا گیا ہے کہ اُن کی طرف سے پُرزور مطالبے کے باوجود مجاز اتھارٹی نے نہ تو اس میمو سے متعلق کوئی تحقیقات شروع کیں اور نہ ہی کوئی آزاد اور خود مختار کمیشن تشکیل دیا جو اس واقعہ کی تحقیقات کرسکے۔

درخواست میں کہا گیا ہے کہ درخواست گزار اس معاملے کو پارلیمنٹ میں لے کر جانا چاہتا تھا لیکن وہاں پر پاکستان میں ڈرون حملوں اور دیگر معاملات سے متعلق متفقہ طور پر پاس ہونے والی قرار داد پر ابھی تک عمل درآمد نہیں ہوا۔ درخواست گزار نے کہا ہے کہ اسی لیے ایک موثر اور خودمختار ادارے سے اس معاملے کی چھان بین کے لیے رخ کیا ہے۔

سابق وزیر اعظم کی طرف سے دائر کی جانے والی اس درخواست میں کہا گیا ہے کہ ان تمام افراد کو عدالت میں طلب کیا جائے اور اُن سے اس مبینہ میمو سے متعلق وضاحت طلب کی جائے اور ذمہ داروں کے کردار کا تعین کیا جائے۔

درخواست میں مزید کہا گیا ہے کہ اگر کوئی بھی شخص پاکستان سے بےوفائی یا جُرم کا مرتکب ہو تو اُس کے خلاف ملک سے غداری اوردیگر ملکی قوانین کے تحت سخت کارروائی کی جائے۔

اسی بارے میں