کمشنری نظام میں عدالتی اختیارات ختم

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption عدالت نے زیر التواء مقدمات کی سماعت کو متعلقہ جوڈیشل مجسٹریٹ اور سیشن ججز کے ذریعے کرانے کا حکم دیا

بلوچستان ہائی کورٹ نے کمشنرز، ڈپٹی کمشنرز اور اسسٹنٹ کمشنرز کے عدالتی اختیارات کو ختم کرنے کا حکم دیتے ہوئے بلوچستان اسمبلی کا ضابطہ فوجداری میں ترمیم سے متعلق بل اور گزشتہ ڈیڑھ برس کے دوران مذکورہ کمشنرز کی جانب سے کئے گئے تمام فیصلوں کو کالعدم قرار دیا۔

یہ حکم بلوچستان ہائی کورٹ کے چیف جسٹس جناب جسٹس قاضی فائز عیسیٰ اور جناب جسٹس عبدالقادر مینگل پر مشتمل ڈویژن بینچ نے جمعرات کو جوڈیشل کمیشن آف پاکستان اور بلوچستان بار کونسل کے رکن محمد کامران خان ملاخیل اور ایک اور آئینی درخواست کا فیصلہ سناتے ہوئے دیا۔

درخواست گزار نے موقف اختیار کیا تھا کہ چونکہ آئین پاکستان کے تحت صوبے میں قائم تمام عدالتیں ہائی کورٹ کے ماتحت ہیں اور ججز کی تعیناتی ہائی کورٹ کے ذریعے عمل میں لائی جاتی ہے۔ لیکن موجودہ صوبائی حکومت نے سال دوہزار دس کے دوران ضابطہ فوجداری میں ترمیم کا بل منظور کر کے کمشنرز، ڈپٹی کمشنرز اوراسسٹنٹ کمشنرز کو عدالتی اختیارات دے دیے ہیں۔

درخواست گزار نے کہا کہ اِن اختیارات کے تحت کمشنرز، ڈپٹی کمشنرز اور اسسٹنٹ کمشنرز تین سال تک کسی بھی ملزم کو قید اور جرمانے کا اختیار رکھتے ہیں جوکہ عدلیہ کے ساتھ ایک متوازی نظام ہے، اس طرح حکومت اپنی مرضی کے لوگوں کومذکورہ عہدوں پر تعینات کر کے اپنی مرضی کے فیصلے کرواسکتی ہے۔

درخواست میں یہ موقف بھی اختیار کیا گیا تھا کہ کمشنرز، ڈپٹی کمشنرز اور اسسٹنٹ کمشنرز کے لیے (ایل ایل بی ) کی شرط بھی نہیں جو بھی آفیسر پروموٹ ہو کر آئے گا وہ لوگوں کو سزائیں اور بریت کے احکامات جاری کرسکے گا جو کہ صحیح نہیں۔

دلائل سننے کے بعد عدالت نے جمعرات کو فیصلہ سناتے ہوئے کمشنرز، ڈپٹی کمشنرز اور اسسٹنٹ کمشنرز کے عدالتی اختیارات کو ختم کرنے کا حکم دیتے ہوئے بلوچستان اسمبلی کے ضابطۂ فوجداری میں ترمیم سے متعلق بل اور مذکورہ کمشنرز کی جانب سے گزشتہ ڈیڑھ برس کے دوران ملزمان کو دی گئی سزاؤں اور بریت کے تمام فیصلوں کو کالعدم قرار دے دیا۔

عدالت نے زیر التواء مقدمات کی سماعت کو متعلقہ جوڈیشل مجسٹریٹ اور سیشن ججز کے ذریعے کرانے کا بھی حکم دیا۔

سماعت کے دوران حکومت کی طرف سے خالد رانجھا ایڈووکیٹ نے مقدمے کی پیروی کی۔

اسی بارے میں