’میمو گیٹ‘ تحقیقات کا حکم، اپوزیشن کا ’واک آؤٹ‘

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service

پاکستان کے وزیراعظم سید یوسف رضا گیلانی نے مائک مولن کو بھیجے جانے والے متنازعہ مراسلے کی تحقیقات کے لیے جلد اعلیٰ سطح کی کمیٹی بنانے کا اعلان کیا ہے لیکن اس کی تفصیلات انہوں نے نہیں بتائیں۔

جمعرات کی شام گئے قومی اسمبلی سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اگر حکومت کو کبھی خطرا محسوس ہوا تو وہ فوج کی طرف نہیں دیکھیں گے بلکہ عوام سے رجوع کریں گے اور اپوزیشن سے مدد حاصل کریں گے۔

انہوں نے کہا کہ حسین حقانی کو قصور کی بنا پر نہیں ہٹایا بلکہ اس لیے عہدے سے علیحدہ کیا ہے تاکہ تحقیقات پر وہ اثر انداز نہ ہوسکیں۔

بی بی سی اردو سروس کے نمائندے اعجاز مہر نے بتایا کہ وزیراعظم نے یہ بیان قائدِ حزب اختلاف چوہدری نثار علی خان کی اس تنقید کے جواب میں دیا جس میں انہوں نے کہا کہ حکومت پارلیمان کے سامنے خود کو جوابدہ نہیں سمجھتی بلکہ وردی والوں کے سامنے جوابدہ سمجھتی ہے۔

چوہدری نثار علی خان نے کہا کہ اگر سفیر قصور وار نہیں تو انہیں کیوں ہٹایا گیا اور اگر سفیر قصور وار ہیں تو حکومت کیسے قصوروار نہیں ہے؟ انہوں نے کہا اگر سفیر گناہ گار نہیں تو ان سے استعفیٰ کیوں لیا گیا؟ انہوں نے مزید کہا کہ وزیر دفاع احمد مختار خود کہہ چکے ہیں کہ یہ معاملہ صرف سفیر تک نہیں رکے گا۔

حزب اختلاف کے راہنما نے کہا کہ ان کی اطلاع کے مطابق حسین حقانی واپس امریکہ جانا چاہتے ہیں لیکن انہیں واپس جانے نہیں دیا جا رہا اور حکومت کوئی بات ایوان کو بتانے کے لیے تیار نہیں۔

چوہدری نثار علی خان کا جواب دیتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ موجودہ حکومت پارلیمان اور عوام کو جوابدہ ہے۔ ان کے بقول انہوں نے فوجی قیادت سے رات کو نہیں بلکہ دن کو ملاقات کی اور یہ ملاقات ایوان صدر میں نہیں بلکہ وزیراعظم ہاؤس میں ہوئی۔

وزیراعظم نے کہا کہ کسی بھی سفیر کے اتنے تعلقات ہوتے ہیں کہ وہ اگر کوئی پیغام دینا چاہیں تو براہ راست دے سکتے ہیں اور انہیں کسی تیسرے شخص کی ضرورت نہیں۔ ان کے بقول حکومت کے بھی امریکہ سے براہ راست تعلقات ہیں اور انہیں بھی کسی اور کے ذریعے رابطے کی ضرورت نہیں۔

‘ہم نے جمہوریت کو بچانے کے لیے قربانیاں دی ہیں۔ اپوزیشن نے بھی دی ہیں۔ ہماری قائد بینظیر بھٹو نے جمہوریت کے لیے جان دی ہے۔ ہم عوام اور پارلیمان کے سامنے خود کو جوابدہ سمجھتے ہیں اور کسی کے سامنے نہیں۔‘

چوہدری نثار علی خان نے وزیراعظم کے بیان کو مسترد کیا اور کہا کہ حکومت کی جانب سے پارلیمان کو نظر انداز کرنے کی وجہ سے ہی ان کی جماعت نے اس معاملے کی تحقیقات کے لیے سپریم کورٹ سے رجوع کیا ہے۔

سید خورشید شاہ نے کہا کہ حکومت اس ایوان کو مقدس سمجھتی ہے اور مختلف معاملات میں فوجی قیادت کو اس ایوان کے سامنے پیش ہونا پڑا ہے اور ایسے الزام نہ لگائیں۔ انہوں نے کہا کہ جب بھی انکوائری مکمل ہوگی تو حکومت یہ رپورٹ ایوان میں پیش کرے گی۔

لیکن چوہدری نثار علی خان نے احتجاج کرتے ہوئے واک آوٹ کا اعلان کیا۔

خورشد شاہ نے اپوزیشن سے کہا کہ وہ عمران خان سے بہت ڈرے ہوئے ہیں اور پنجاب میں من پسند افراد میں پیلی ٹیکسیاں تقسیم کرتے پھر رہے ہیں تو باہر جاتے ہوئے تہمینہ دولتانہ نے انہیں کہا ‘ہم عمران خان سے نہیں ڈرتے۔‘

اسی بارے میں