پاکستان اور بھارت کی تجارت کا حجم دو ارب ڈالر

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption دونوں ملکوں کے درمیان واہگہ کے علاوہ دیگر راستے بھی کھلنے چاہیے: تاجر آفتاب وہرہ

پاکستان میں انڈین ہائی کمشنر نے کہا ہے کہ دونوں ملکوں کے تاجراور صنعتکار سرحد پار تجارت میں خصوصی دلچسپی رکھتے ہیں اور بھارت چاہتا ہے کہ تمام ہمسائے ممالک اس کی تیز رفتار ترقی میں شامل ہوں۔

یہ بات انہوں نے لاہور کے ایوان صنعت و تجارت میں پاکستانی صنعتکاروں اور تاجروں سے خطاب کرتے ہوئے کہی۔

پاکستان میں بھارتی ہائی کمشنر شرد سبروال نے کہا کہ عام شہریوں کی اقتصادی ترقی بھارت کی عوامی پالیسی ہے اور ہمسائیوں سے معاشی روابط قائم کرنا اور انہیں فروغ دینا بھارت کی خارجہ پالیسی کی اولین ترجیح ہے۔

بھارتی ہائی کمشنر نے کہا کہ دونوں ملکوں کے درمیان تجارت کا حجم دو ارب ڈالر ہے جسے اگلے برس تک چھ ارب ڈالر تک پہنچانے کا ہدف رکھا گیا ہے۔

شرد سبروال نے کہا کہ بھارتی معشیت کا کل حجم اب ایک کھرب چار ارب ڈالر تک پہنچ چکا ہے وہ دنیا کے دیگر ممالک کے ساتھ ساتھ پاکستان میں بھی اقتصادی مواقع تلاش کررہا ہے۔ خود پاکستان بھی اس موقع سے فائدہ اٹھاتے ہوئے اپنے ہمسائے میں موجود ایک بڑی معاشی قوت سے فائدہ حاصل کرسکتا ہے۔

لاہور سے بی بی سی نامہ نگار علی سلمان نے بتایا کہ بھارت کو پاکستان سے انتہائی پسندیدہ ملک کا درجہ ملنے کے بعد بھارتی ہائی کمشنر پاکستان کے مختلف ایوان ہائے صنعت و تجارت کے دورے کررہے ہیں۔ وہ لاہور سے پہلے کراچی سیالکوٹ اور فیصل آباد کے ایوان صنعت و تجارت سے خطاب کر چکے ہیں۔

بھارتی ہائی کمشنر نے کہا کہ وہ اس نتیجہ پر پہنچے ہیں کہ دونوں ملکوں کے صنعتکار اور تاجر ایک دوسرے سے تجارت میں خصوصی دلچسپی رکھتےہیں۔

جمعرات کی تقریب میں آٹو موبل ادویات، خوردنی تیل، صابن اور کاغذ تیار کرنے والے صنعتکاروں اور تاجروں نے انڈین ہائی کمشنر کے سامنے اپنے خدشات کا اظہار کیا۔

ایوان صنعت و تجارت لاہور کے صدر عرفان قیصر نے کہا کہ انہوں نے بھارتی ہائی کمشنر کو بتایا کہ پاکستانی تاجروں و صنعتکاروں کو چند خدشات ہیں جس پر انڈین ہائی کمشنر نے وعدہ کیا ہے کہ وہ ان خدشات کو اپنے ملک میں متعلقہ حکام تک پہنچائیں گے۔

ایوان صنعت و تجارت لاہور کی پاک انڈیا ٹریڈ پرموشن کمیٹی کے سربراہ آفتاب احمد وہرہ نے کہا کہ دونوں ملکوں کے درمیان واہگہ کے علاوہ دیگر راستے بھی کھلنے چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ تجارتی ریلوے ٹریک کھلنے کے علاوہ مناباؤ اور گنڈاسنگھ باڈر بھی کھلنے چاہیے تاکہ پاکستانی اشیاء کم قیمت پر بھارتی تاجروں تک پہنچ سکیں اور وہ مزید آڈر دے سکیں۔

پاکستانی تاجرو صنعتکاروں کے نمائندوں کا کہنا ہے کہ تجارت کا توازن پاکستان کے حق میں منفی ہے اور حکومت پاکستان کو ممنوعہ درآمدی اشیاء کی فہرست کو کم کرنے سے پہلے اس بات کا خیال رکھنا چاہیے کہ کہیں پاکستان کی صنعتیں بالکل ہی تباہ نہ ہوجائیں۔

اسی بارے میں