ملالہ کے لیے دس لاکھ اور امن ایوارڈ

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service

پاکستان کے وزیراعظم سید یوسف رضا گیلانی اور خیبر پختون خوا کے وزیراعلیٰ امیر حیدر خان ہوتی نے بی بی سی اردو سروس کے لیے ڈائری لکھنے والی سوات کی طالبہ ملالہ یوسف زئی کو دس لاکھ روپے اور امن ایوارڈ دینے کا اعلان کیا ہے۔ ملالہ عالمی امن ایوارڈ کےلیے بھی نامزد ہوئی ہیں۔

وزیراعظم سیکریٹریٹ اسلام آباد سے جمعرات کو جاری ہونے والے ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ ملالہ یوسف زئی کو سوات میں طالبان کے عروج کے دور میں بچوں کے حقوق کے لیے آواز اٹھانے پر پانچ لاکھ روپے اور امن یوارڈ دیا جائے گا۔

وزیراعظم کے اعلان کے بعد خیبر پختون خوا کے وزیراعلیٰ امیر حیدر خان ہوتی نے بھی ملالہ یوسف زئی کی عالمی امن ایوارڈ کےلیے نامزدگی پر پانچ لاکھ روپے دینے کا اعلان کیا ہے۔

وزیراعظم سیکریٹریٹ سے جاری ہونے والے بیان کے مطابق سید یوسف رضا گیلانی نے ہدایت کی کہ ہر سال قومی امن ایوارڈ کے نام سے ایک ایوارڈ جاری کیا جائے گا جو اٹھارہ سال سے کم عمر لڑکیوں کو امن اور تعلیم کے لیے خدمات کے اعتراف میں دیا جائے گا۔

خیال رہے کہ سوات کی تیرہ سالہ طالبہ ملالہ یوسف زئی کو حال ہی میں ہالینڈ کی بین الاقوامی تنظیم’ ِکڈز رائٹس‘ کی طرف سے اس سال ’ انٹرنیشنل چلڈرن پیس پرائز‘ کے لیےنامزد کیا گیا ہے۔ وہ پہلی پاکستانی کم سن لڑکی ہیں جنھیں اس ایوارڈ کےلیے نامزد کیا گیا ہے۔

ملالہ یوسف زئی کا تعلق سوات کے صدر مقام مینگورہ شہر سے ہے۔ سوات میں سنہ دو ہزار نو میں فوجی آپریشن سے پہلے حالات انتہائی کشیدہ تھے اور شدت پسند مذہبی رہنما مولانا فضل اللہ کے حامی جنگجو وادی کے بیشتر علاقوں پر قابض تھے جبکہ لڑلیوں کی تعلیم پر بھی پابندی لگا دی گئی تھی۔ اس زمانے میں مینگورہ سے روزانہ گلا کٹی یا پھر بجلی کے کھمبوں یا درختوں پر لٹکی ہوئی لاشیں ملتی تھیں۔ طالبان کے خوف سے اس صورتِ حال پر میڈیا میں بھی کوئی بات نہیں کرسکتا تھا۔

ان حالات میں ملالہ یوسف زئی نے کم سن ہوتے ہوئے بھی انتہائی جرت کا مظاہرہ کیا اور مینگورہ سے ’گل مکئی‘ کے فرضی نام سے بی بی سی اردو سروس کےلیے باقاعدگی سے ڈائری لکھنا شروع کی۔

اس ڈائری میں وہ سوات میں ہونے والے واقعات اور طالبان کے ظلم و ستم کی کہانیاں لکھا کرتی تھیں۔ اس ڈائری کو اتنی شہرت حاصل ہوئی کہ ملالہ یوسف زئی کی تحریریں مقامی اور بین الاقوامی ذرائع ابلاغ میں بھی باقاعدگی سے شائع ہونے لگیں۔ ملالہ پر میڈیا کے دو بین الاقوامی اداروں نے دستاویزی فلمیں بھی بنائیں جن میں انہوں نے کھل کر تعلیم پر پابندیوں کی بھر پور مخالفت کی۔

اسی بارے میں