’چیئرمین اوگرا کی تقرری کالعدم‘

اوگرا تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption عدالت نے حکم دیا کہ خالی آسامی کو شفاف اور منصفانہ طریقہ کار کے ذریعے پُر کیا جائے۔

پاکستان کی سپریم کورٹ نے تیل اور گیس کے انتظامی ادارے اوگرا کے چیئرمین توقیر صادق کی تقرری کالعدم قرار دے دی ہے۔

عدالت نے ان کی تقرری کے خلاف دائر درخواستوں پر فیصلہ سناتے ہوئے کہا کہ توقیر صادق کی تقرری قانون کے مطابق نہیں کی گئی لہذٰا ان کے عہدے کوخالی تصور کیا جائے۔

عدالت نے ان سے تمام مراعات اور تنخواہ کی مد میں ادا کی گئی رقم بھی واپس لینے کا حکم دیا ہے۔

چیئرمین اوگرا کی تقرری کے خلاف جسٹس شاکراللہ جان کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے درخواست کی سماعت کے بعد چودہ اکتوبر کو فیصلہ محفوظ کر لیا تھا جو جمعہ کو سنایا گیا ہے۔

عدالت نے توقیر صادق کی تقرری غیرقانونی قرار دیتے ہوئے ان کے خلاف الزامات نیب کو بھجوا دیے ہیں اور حکم دیا ہے کہ بحیثیت چیئرمین اوگرا انہوں نے بائیس جولائی دو ہزار نو سے جو تنخواہ مراعات حاصل کی ہیں وہ واپس کی جائیں۔

عدالت نے حکم دیا کہ قانون کے تقاضے پورے کرتے ہوئے اب اس خالی آسامی کوایک شفاف اور منصفانہ طریقہ کار کے ذریعے پُر کیا جائے۔ عدالت نے نیب کو یہ حکم بھی دیا کہ وہ حکومتی اور سرکاری عہدوں پر فائز اشخاص کی کارکردگی اور ان عہدیداران کی ممکنہ بدعنوانی سے متعلق رپورٹ پینتالیس دن کے اندر عدالت کو پیش کرے۔

توقیر صادق حکمراں جماعت پاکستان پیپلز پارٹی کے سیکرٹری جنرل جہانگیر بدر کے برادرِ نسبتی بتائے جاتے ہیں۔

آئل اینڈ گیس ریگولیٹری اتھارٹی کے ایک ملازم محمد یاسین کی طرف سے دائر کی جانے والی اس درخواست میں موقف اختیار کیا گیا تھا کہ توقیر صادق چیئرمین اوگرا کے عہدے کے اہل نہیں ہیں۔ اُنہوں نے کہا کہ اس عہدے کے لیے تیل اور گیس کی فیلڈ میں تجربہ ہونا ضروری ہے لیکن توقیر صادق کے خلاف نہ تو کوئی اس کا تجربہ ہے اور نہ ہی اُن کی تعلیمی قابلیت اس عہدے کے معیار پر پوری اُترتی ہے۔

درخواست میں اس بات کا بھی زکر کیا گیا تھا کہ توقیر صادق کی غلط پالیسیوں کی وجہ سے قومی خزانے کو باون ارب روپے کا نقصان ہوا ہے۔

عدالت نے اپنے فیصلے میں اس بات کا بھی حوالہ دیا ہے کہ اس عہدے کے لیے چنے گئے سولہ افراد میں سے اکثر کا تعلق انتظامی امور اور تیل اور گیس کی فیلڈ میں تجربہ رکھتے تھے جبکہ توقیر صادق کے پاس ماسٹر آف لاء کی ڈگری ہے جو اُنہوں نے امریکن یونیورسٹی لندن سے حاصل کی تھی جس کے بارے میں معلوم ہوا کہ اس نجی یونیورسٹی کا الحاق کسی بھی منظور شدہ یونیورسٹی سے نہیں تھا۔

اسی بارے میں