ایم ایف این: کالعدم تنظیموں کا احتجاج

عبدالعزیز علوی تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption احتجاجی مظاہرے سے جماعت الدعوۃ کے رہنما عبدالعزیز علوی اور جیشِ محمد کے سیف اللہ نے خطاب کیا

پاکستان کے زیرِانتظام کشمیر کے دارالحکومت مظفر آباد میں جمعہ کو کالعدم جہادی تنظیموں سمیت مختلف مذہبی اور سیاسی جماعتوں نے بھارت کو تجارت کے لیے پسندیدہ ملک قرار دینے کے فیصلے کے خلاف احتجاجی مظاہرہ کیا۔

ماضی میں ایسا کم ہی نظر آیا ہے کہ کشمیر کی سیاسی اور کالعدم شدت پسند تنظیموں کے نمائندوں نے متحد ہو کر احتجاج کیا ہو۔

احتجاج کی اپیل پاکستان مسلم لیگ (ن) اور جماعتِ اسلامی نے دی تھی تاہم اس میں دیگر سیاسی اور مذہبی جماعتوں کے علاوہ کالعدم تنظیموں جیشِ محمد اور جماعت الدعوۃ کے رہنماؤں نے بھی شرکت کی۔

احتجاجی مظاہرے سے جماعت الدعوۃ کے رہنما عبدالعزیز علوی اور جیشِ محمد کے سیف اللہ نے خطاب کیا اور حکومتِ پاکستان پر شدید تنقید کی۔

نامہ نگار ذوالفقار علی نے بتایا کہ مظاہرین سے خطاب کرتے ہوئے مقررین نے کہا کہ بھارت کو تجارت کے لیے پسندیدہ ترین ملک قرار دینے سے ان کے بقول کشمیر کی آزادی کی تحریک کو نقصان پہنچے گا۔

پاکستان کے زیرِانتظام کشمیر کی حکمران جماعت پاکستان پیپلز پارٹی اور اس کی اتحادی جماعت متحدہ قومی موومنٹ نے احتجاجی مظاہرے میں شرکت نہیں کی۔

پولیس نے بتایا کہ اس مظاہرے میں صرف چار سے پانچ سو کے قریب افراد نے شرکت کی جبکہ منتظیمین شرکاء کی تعداد ایک ہزار بتاتے ہیں۔ اس موقع پر پولیس کی بھاری نفری موجود رہی تاہم انھوں نے کالعدم تنظیموں کے رہنماؤں کے خلاف کوئی کارروائی نہیں کی۔

مظفر آباد میں ہونے والے اس احتجاج میں کالعدم تنظیموں کی شرکت کے بارے میں مسلم لیگ نون کے ایک مقامی رہنما اور رکنِ اسمبلی افتخار گیلانی نے کہا کہ کشمیر کا مسئلہ ایسا نکتہ ہے جس سے لوگوں کی جذباتی وابستگی ہے اور ہر شخص خواہ اس کا تعلق کسی بھی جماعت سے ہو وہ اس کا پرامن حل چاہتا ہے۔

واضح رہے کہ پاکستان کی وفاقی کابینہ نے دو نومبر کو بھارت کو تجارت کے لیے پسندیدہ ملک قرار دینے کی اصولی منظوری دی تھی لیکن بھارت کو ابھی تک یہ درجہ نہیں دیا گیا ہے۔

اسی بارے میں