ریکی کی لاش گھر پہنچی اور راز فاش ہوگیا

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service

عبدالقدیر بلوچ گزشتہ تین سالوں سے اپنے ساڑھے پانچ سالہ پوتے بیورغ سے جھوٹ بولتے رہے کہ ان کے والد کراچی میں کام کرتے ہیں۔ لیکن جب عبدالجلیل ریکی کی لاش گھر پہنچی تو یہ راز فاش ہوگیا۔

عبدالجلیل ریکی تیرہ فروری دو ہزار نو کو کوئٹہ کی سریاب روڈ سے لاپتہ ہوگئے تھے۔ ان کے والد عبدالقدیر بلوچ کبھی کوئٹہ تو کبھی اسلام آباد اور کبھی کراچی پریس کلب کے باہر بھوک ہڑتال پر بیٹھے ہوئے نظر آتے تھے۔

تین سال کے بعد جمعرات کو عبدالجلیل ریکی کی لاش ایران کے سرحدی علاقے مند سے ملی۔ عبدالقدیر کو جب اطلاع ملی تو وہ کوئٹہ پریس کلب کے باہر بھوک ہڑتال پر تھے۔

عبدالقدیر نے بی بی سی کو بتایا کہ مند کے مقامی لوگوں نے ان سے رابطہ کیا اور بتایا کہ وہاں سے دو لاشیں ملی ہیں جن میں سے ایک کی شکل عبدالجلیل سے ملتی ہے۔ یہ بات سنتے ہی عبدالقدیر نے اپنے دوستوں کو مند کے لیے روانہ کردیا جہنوں نے تربت ہپستال کے مردہ خانے میں جاکر تصدیق کی کہ یہ لاش عبدالجلیل کی ہی ہے۔

قلات کے علاقے سوراب میں جمعہ کو بلوچستان کی آزادی کے نعروں کی گونج میں جلیل کی تدفین کی گئی۔ تین سال میں پہلی دفعہ، بیورغ نے اپنے والد کو مردہ حالت میں دیکھا۔

ساڑھے پانچ سالہ بیورغ کے دل میں سوراخ ہے۔ ان کے دادا عبدالقدیر ڈاکٹروں کے مشورے کے تحت والد کے اغواء کی خبر اپنے پوتے سے چھپاتے رہے تاکہ اسے کوئی صدمہ نہ پہنچے۔ وہ اسے ہمیشہ یہ بتاتے تھے کہ آپ کے والد کراچی میں کام کرتے ہیں۔

عبدالقدیر نے بتایا ’اگرچہ لوگوں نے روکا مگر آج میں نے ہاتھ پکڑ کر بیورغ کو والد کی خون میں ڈوبی ہوئی لاش دکھائی تاکہ وہ یہ تکلیف اپنے ساتھ لے کر بڑا ہو اور اس کے اندر نفرت بڑھے۔ جب وہ بڑا ہوا تو اپنے والد کے نقش قدم پر چلے۔‘

جلیل ریکی ایک بینک میں ملازم تھے۔ کچھ عرصے بعد وہ ملازمت چھوڑ کر نواب اکبر بگٹی کی جماعت جمہوری وطن پارٹی میں شامل ہوگئے۔ نواب کی ہلاکت کے بعد ان کی وابستگی نواب کے پوتے براہمداغ بگٹی سے ہوگئی اور انہیں بلوچ ریپبلکن پارٹی کا مرکزی سیکریٹری اطلاعات مقرر کیا گیا۔

عبدالقدیر نے بتایا کہ ان کے بیٹے کے سینے پر گولی کا نشان تھا اور یہ گولی آرپار ہوئی تھی۔ گولی کے باعث ان کے سینے سے مسلسل خون بہہ رہا تھا۔ ’ان کی تازہ شیو کی ہوئی تھی اور وہ ہی کپڑے پہنے تھے جو گمشدگی کے وقت پہنے ہوئے تھے۔ علما نے انہیں شہید قرار دیا، اس لیے بغیر غسل اور کفن کے ان ہی کپڑوں میں تدفین کی گئی۔‘

بتیس سالہ عبدالجلیل کی گمشدگی کے بعد سے لے کر اب تک اُن کے والد عبدالقدیر بھوک ہڑتال اور احتجاج کرتے رہے ہیں۔ وفاقی حکومت کی جانب سے بلوچستان پیکیج کے تحت لاپتہ افراد کی بازیابی کے لیے بنائے گئے کمیشن کے روبرو بھی پیش ہوئے مگر نہ انصاف ملا نہ بیٹا۔

عبدالقدیر لاپتہ بلوچ نوجوانوں کی بازیابی کے لیے بنائی گئی تنظیم ’وائس فور مسنگ پیپلز‘ کے نائب چیئرمین بھی ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ جلیل کی لاش ملنے کے بعد بھی ان کا احتجاج نہیں رکے گا بلکہ یہ سانسیں رکنے تک جاری رہیگا۔

ان کا کہنا تھا کہ انہیں امید تو نہیں تھی کہ بیٹا زندہ واپس آئے گا مگر پھر بھی وہ یہ آس لگائے بیٹھے تھے کہ ایمنٹسی انٹرنیشنل یا انسانی حقوق کی تنطیموں کے دباؤ میں آکر ہوسکتا کہ ان کے بیٹے کو رہا کردیا جائے۔

’تین سال تک انہیں قید کیوں رکھتے ہو، جب انہیں اٹھاتے ہیں تو انہیں شہید کردیں، چھوڑدیں یا پھر عدالت میں پیش کریں۔ تین سال عقبوت خانے میں رکھ کر پھر کیوں مار دیتے ہیں۔‘

دو سال قبل تئیس نومبر کو پارلیمنٹ میں آغاز حقوق بلوچستان پیکیج پیش کیا گیا تھا، جس میں لاپتہ افراد کی فہرست کو ظاہر کرنے کے وعدے کیے گئے تھے۔ اس پیکیج کی دوسری سالگرہ پر عبدالقدیر کو ان کے بیٹے عبدالجلیل ریکی کی لاش ملی ہے۔

عبدالقدیر کا کہنا ہے کہ انہیں انصاف کی کوئی توقع نہیں ہے یہاں ہر بلوچ کے ساتھ زیادتی ہو رہی ہے، ایسی صورتحال میں وہ آزادی کی بات نہ کریں تو کیا کریں، ماریں اور مریں نہیں تو کیا کریں۔

اسی بارے میں