دفاعی کمیٹی کا اجلاس، بیان کا متن

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service

پاکستان کے وزیر اعظم سید یوسف رضا گیلانی کی سربراہی میں سنیچر کی شب کابینہ کی دفاعی کمیٹی کا ہنگامی اجلاس منقعد ہوا جس میں نیٹو ہیلی کاپٹرز کی جانب سے پاکستانی چوکیوں پر فائرنگ کے واقعے کی شدید مذمت کی گئی۔

اسلام آباد سے نامہ نگار ذوالفقار علی کے مطابق اجلاس کے بعد جانے ہونے والے بیان کا متن درج ذیل ہے۔

  • کابینہ کی دفاعی کمیٹی یا ڈی سی سی نیٹو اور ایساف کی جانب سے مہمند ایجنسی میں پاکستانی فوج کی سرحدی چوکیوں پر حملے کی مذمت کرتی ہے جس میں پاکستانی فوج کے افسروں اور جوانوں کی قیمتی جانیں گئیں۔
  • ڈی سی سی بہادر جوانوں کے خاندانوں والوں کے ساتھ ہمدردی اور تعزیت کا اظہار کرتی ہے جنھوں نے بہادری سے لڑتے ہوئے جان دی۔
  • اجلاس میں اس عزم کا اظہار کیا گیا کہ پاکستان کی عوام اور مسلح افواج ملک کے اقتدار اعلیٰ، خود مختاری اور علاقائی سالمیت کا ہر قیمت پر تحفظ کریں گے۔
  • ڈی سی سی کے اجلاس میں بتایا گیا کہ اس حملے کے خلاف امریکہ اور نیٹو کے ساتھ احتجاج کیا گیا اور ان کو بتایا کہ پاکستان اس حملے کی شدید ترین الفاظ میں مذمت کرتا ہے جو پاکستان کے اقتدارِ اعلیٰ کو تاراج کرتا ہے اور بین الاقوامی قوانین کی کھلی خلاف ورزی ہے اور اس حملے نے شدت پسندی اور دہشت گردی کے خلاف پاکستان کے نیٹو اور ایساف کے ساتھ تعاون کے بنیادی احساس پر گہری ضرب لگائی ہے۔
  • یہ حملہ نیٹو اور ایساف کے مینڈیٹ کی بھی خلاف ورزی ہے جو صرف افغانستان کے جغرافیائی حدود تک محدود ہے۔ پاکستان نے امریکہ نیٹو اور ایساف کو آگاہ کیا کہ یہ وہ خطرناک حدود ہیں جن کو پار نہ کیا جائے اور یہی حدود پاکستان کے تعاون کا کل جز ہیں جس کی بنیاد شراکت داری کی سوچ پر ہے۔پاکستان کی چوکیوں پر حملہ قطعاً قابل قبول نہیں اور یہ قومی سطح پر ایک موثر جواب کا تقاضا کرتا ہے۔
  • رواں سال چودہ مئی کو پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس میں منظور کی گئی قرارداد کی روشنی میں کابینہ کی ڈی سی سی نے فیصلہ کیا کہ امریکہ سے کہا جائےگا کہ وہ بلوچستان میں واقع شمسی ائیر بیس پندرہ دنوں کے اندر خالی کرے۔
  • اجلاس میں افغانستان میں موجود بین الاقوامی اتحادی افواج نیٹو اور ایساف کے لیے رسد کی فراہمی فوری طور پر بند کرنے کا بھی فیصلہ کیا گیا۔
  • اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ حکومت امریکہ، نیٹو اور ایساف کے ساتھ سیاسی، فوجی، سفارتی اور انٹیلیجنس سمیت تمام پروگراموں، سرگرمیوں اور تعاون کے طریقے پر دوبارہ نظرثانی کرے۔
  • ڈی سی سی کے اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ وزیر اعظم پاکستان امریکہ، نیٹو اور ایساف کے ساتھ پاکستان کے مستقبل کے تعلقات کے متعلق تمام اقدامات کے بارے میں پارلیمنٹ کو اعتماد میں لیں گے۔

اسی بارے میں