ایساف کا اظہارِ افسوس، تحقیقات کا وعدہ

کیمرون منٹر تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption امریکہ اس واقعے کی تحقیقات کے سلسلے میں پاکستان کے ساتھ مل کر کام کرے گا:کیمرون منٹر

برسلز میں پاکستانی سفیر جلیل عباس جیلانی نے کہا ہے مہمند ایجنسی میں نیٹو حملے اور پاکستانی اہلکاروں کی ہلاکتوں پر احتجاج کے جواب میں نیٹو نے نائب سربراہ نے اس واقعے کی تحقیقات کروانے کا وعدہ کیا ہے مگر یہ نہیں بتایا گیا کہ یہ تحقیقات کب تک مکمل ہوسکیں گی۔

پاکستانی وزارت خارجہ کی ہدایت پر بیلجیئم میں پاکستان کے سفیر جلیل عباس جیلانی نے نیٹو کے ڈپٹی سیکرٹری جنرل کلوڈیو بسینیرو سے تحریری طور پر احتجاج کیا ہے۔

انھوں نے اپنے تحریری احتجاج میں لکھا ہے کہ جمعے کی رات پاکستان کی سرزمین پر ہونے والا حملہ افسوسناک ہے اور یہ پاکستان کی علاقائی سالمیت کی خلاف ورزی ہے۔

جلیل عباس جیلانی نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ’تحقیقات کے لیے کوئی نظام الاوقات نہیں دیا گیا تاہم امید ہے کہ جلد از جلد اس کی تحقیقات کرکے ہمیں اس سے آگاہ کیا جائے گا۔‘

جلیل عباس جیلانی کا کہنا تھا کہ اس سے پہلے جب گزشتہ برس اس قسم کے واقعات ہوئے تھے تو اس پر شدید احتجاج کیا گیا تھا جس پر پاکستان کو یہ یقین دلایا گیا تھا کہ ایسے واقعات دوبارہ نہیں ہوں گے۔

برسلز میں پاکستانی سفیر نے کہا کہ پاکستان دہشت گردی کے خلاف جنگ میں بھرپور کردار ادا کررہا ہے اور اس قسم کے حملوں سے صرف دہشت گردوں کو ہی تقویت پہنچتی ہے۔

نیٹو کی جانب سے پاکستانی چوکیوں پر حملے کے معاملے کو اقوامِ متحدہ میں لے جانے کے امکان کے حوالے سے جلیل عباس جیلانی نے کہا کہ ’پاکستان میں متعلقہ حکام غور و فکر کررہے ہیں یہ بہت ہی سنگین معاملہ ہے، غور و خوص کے بعد جو بھی فیصلہ ہوگا اس پر پوری طرح عمل کیا جائے گا‘۔

ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ ہم نے انھیں یاد دلایا ہے کہ نیٹو اور ایساف کا دائرہ اختیار صرف افغانستان کی حدود تک ہی محدود ہے اور پاکستان کی سرزمین پر کارروائی کا ان کے پاس کوئی مینڈیٹ نہیں ہے۔

ادھر افغانستان میں تعینات اتحادی افواج کے کمانڈر جنرل جان ایلن نے بھی اس واقعے کی مکمل تحقیقات کا وعدہ کرتے ہوئے فوجیوں کی ہلاکت پر تعزیت کی ہے۔

اپنے بیان جنرل ایلن نے کہا ہے کہ ’اس واقعہ کی طرف میری ذاتی طور پر پوری توجہ مرکوز ہے اور میں حقائق کا تعین کرنے کے لیے تحقیقات کا وعدہ کرتا ہوں‘۔

ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ ’میں پاکستانی فوج کے ان ارکان کے اہلِ خانہ سے ذاتی طور پر تعزیت کرتا ہوں جو اس واقعے میں مارے گئے یا زخمی ہوئے ہیں‘۔

ایساف کا بھی کہنا ہے کہ وہ پاکستان کے ساتھ سکیورٹی تعلقات بشمول سرحد کی دونوں جانب کارروائیوں میں تعاون بہتر بنانے کے لیے پرعزم ہے۔

دوسری جانب مہمند ایجنسی میں ایساف کی جانب سے پاکستانی چوکیوں کو نشانہ بنائے جانے پر پاکستان کے شدید احتجاج پر امریکی سفیر نے اس واقعے پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے تحقیقات کا وعدہ کیا ہے۔

امریکی سفارتخانے کی جانب سے جاری کردہ بیان کے مطابق امریکی سفیر کو سرحد پار کارروائی کے اس واقعے میں پاکستانی فوجیوں کی ہلاکتوں پر افسوس ہے۔

امریکی سفیر کا کہنا ہے کہ ’مجھے پاکستانی اہلکاروں کی ہلاکت پر افسوس ہے اور میرا وعدہ ہے کہ امریکہ اس واقعے کی تحقیقات کے سلسلے میں پاکستان کے ساتھ مل کر کام کرے گا‘۔

خیال رہے کہ سنیچر کی صبح پیش آنے والے اس واقعے پر پاکستان نے واشنگٹن میں امریکی اور برسلز میں نیٹو کے حکام سے تحریری احتجاج کیا تھا۔

اسی بارے میں