’جلسہ سیاسی سے زیادہ روحانی لگ رہا تھا‘

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service

پاکستان میں حکمران جماعت پیپلز پارٹی کے سابق رہنماء شاہ محمود قریشی نے صوبہ سندھ کے ضلع گھوٹکی میں ہونے والے ایک ایسے جلسے کے دوران تحریک انصاف میں شامل ہونے کااعلان کیا ہے جس میں ان کے مریدین اور سیاسی پیروکاروں کی ایک بڑی تعداد موجود تھی۔

آزاد مبصرین کے مطابق اس جلسے میں پچیس سے تیس ہزار کے قریب افراد نے شرکت کی اور خواتین کی تعداد نہ ہونے کے برابر تھی۔

شاہ محمود قریشی عمران خان سے کچھ ہی دیر پہلے پنڈال میں پہنچے تھے لیکن خطاب پہلے عمران خان نے کیا۔

شاہ محمود قریشی نے تحریک انصاف میں شمولیت سے پہلے اپنے سیاسی مستقبل کے حوالے سے خاصا سسپنس یا تجسس پیدا کررکھا تھا لیکن دو روز پہلے جب عمران خان نے پشاور جلسے میں یہ اعلان کیا کہ وہ گھوٹکی جلسے میں شریک ہوں گے تو لوگوں کو کافی حد تک یقین ہوچکا تھا کہ شاہ محمود قریشی تحریک انصاف میں ہی شامل ہوں گے۔

بہرحال شاہ محمود قریشی ایک منجھے ہوئے سیاستدان ہیں۔انہوں نے جلسے میں آخر وقت تک تجسس برقرار رکھا پھر طریقے سے جلسے گاہ میں موجود لوگوں سے پوچھا کہ وہ کیا چاہتے ہیں؟سوال تھا کہ میں گھر بیٹھ جاؤں یا سیاست کروں جواب سیاست کے حق میں ملا تو شاہ محمود قریشی نے کہا دیا کہ وہ انصاف کی تحریک میں شامل ہو رہے ہیں اور یوں اس سسپنس کا خاتمہ کیا جس نے ان میں دلچسپی رکھنے والے لوگوں کو جکڑ رکھا تھا۔

شاہ محمود قریشی کے جلسےمیں جمع ہونے والے لوگوں کی بڑی تعداد ان کے مریدوں کی رہی۔ جماعت غوثیہ کے کوئی ایک ہزار کے قریب باوردی اہلکاروں نے جلسے کا انتظام سنبھال رکھا تھا اور سندھ کی مختلف درگاہوں سے سجادہ نشین اور گدی نشین بھی جلسہ گاہ میں پہنچتے رہے جنہیں سٹیج سے ویلکم کیا جاتا۔جلسہ سیاسی سے زیادہ روحانی لگ رہا تھا۔

شاہ محمود قریشی کی ہر بات پر جلسے کے لوگ بغیر سوچے سمجھےسبحان اللہ کا ورد کرنے لگتے۔ایک موقع پر تو جب انہوں نے کہا کہ آج کا دن یکم محرم کا دن ہے جب حضرت امام حسین یزدیت کو شکست دینے کے لیے کربلا پہنچے تھے تو اس پر بھی جلسے شرکاء کی ایک بڑی تعداد نے سبحان اللہ کہہ دیا۔

جلسے میں تحریک انصاف کے کارکن بھی شریک رہے لیکن ان کی تعداد کافی کم تھی۔گھوٹکی کے مقامی لوگ بھی جلسے میں شریک ہوئے لیکن ان کی زیادہ تعداد جلسہ گاہ کے کناروں پر رہی اورجلسہ ختم ہونے سے پہلے ہی ان میں سے بیشتر روانہ ہوگئے۔

شاہ محمود قریشی نے اپنے مریدوں اور سیاسی پیروکاروں کو پابند کیا کہ وہ پچیس دسمبر کو کراچی میں تحریک انصاف کے جلسے میں شرکت کریں۔انہوں نے کہا کہ گھوٹکی جلسہ بارش کا پہلا قطرہ ثابت ہوگا کیونکہ اس نے سندھ کا جمود توڑ دیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ سندھ میں جلسہ کرنا آسان نہیں تھا کیونکہ یہاں ایک فرعون بستا ہے۔ان کا اشارہ صدر آصف علی زرداری کی جانب تھا۔

انہوں نے کہا صدر آصف کی موجودگی میں پاکستان کا ایٹمی پروگرام محفوظ نہیں ہے اور وہ اس بارے مزید تفصیلات تحریک انصاف کے پچیس دسمبر کے کراچی جلسے میں بتائیں گے۔

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption شاہ محمود قریشی عمران خان سے کچھ ہی دیر پہلے پنڈال میں پہنچے تھے لیکن خطاب پہلے عمران خان نے کیا

جلسے میں گوزرداری گو کے نعرے لگے لیکن مسلم لیگ نون کے بارے میں ایک لفظ بھی نہیں کہا گیا۔

پنڈال میں شاہ محمود قریشی کی بڑی بڑی تصویریں رکھی ہوئی تھیں سٹیج پر ان کی تصویر کے ساتھ علامہ اقبال اور قائد اعظم کی تصویر تھی جبکہ درمیان میں حضرت بہاءالحق زکریا کا مزار تھا۔شاہ محمود قریشی انہی کے سجادہ نشین ہیں۔

اندرون سندھ میں ایک بڑی تبدیلی عمران خان کےحوالے سے پائی گئی دو تین مہینے عمران کا خان کا نام لیوا ڈھونڈے سے نہیں ملتا تھا لیکن اب عمران خان کے پوسٹر اور بینر سندھ شروع ہوتے ہی دکھائی دینے لگے۔

عمران خان ایک جلسے کی شکل میں پنجاب کے سرحدی شہر خان پور سے گھوٹکی تک آئے اور راستے میں جگہ جگہ ان کا استقبال ہوا اور لوگ جتھے بنا کر ان کے جلوس میں شامل ہوئے۔

عمران خان نے اپنے خطاب میں کہا کہ یہ جو سونامی سندھ پہنچی ہے وہ ایک بڑی تبدیلی لیکر آئے گی۔

انہوں نے کہا کہ پاکستانی فوجیوں پر امریکیوں کے حملے کے معاملےکو اقوام متحدہ کی سیکورٹی کونسل میں اٹھایا جائے اور کہا جائے کہ ہمارے ملک پر حملہ ہوا ہے جو ہماری خود مختاری کے خلاف ہے۔

اسی بارے میں