شاہ محمود قریشی تحریک انصاف میں شامل

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption سابق وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے تحریک انصاف میں شمولیت کا اعلان کیا ہے

پاکستان کے سابق وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے اتوار کو صوبہ سندھ کے شہر گوٹھکی میں ایک جلسئہ عام میں پاکستان تحریک انصاف میں شمولیت کا اعلان کیا ہے۔

گوٹھکی شہر میں شاہ محمود قریشی کی مذہبی تنظیم جماعتِ غوثیہ کے مریدوں اور پیروکاروں کے اجتماع میں پاکستان تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان اور ان کے رفقاء نے بھی شرکت کی۔

مبصرین کے مطابق جماعت غوثیہ کے اس جلسے میں شاہ محمود قریشی کے پچیس سے تیس ہزار مریدوں نے شرکت کی۔

تحریک انصاف میں شمولیت اختیار کرنے کے فیصلے سے قبل شاہ محمود قریشی نے اپنے مریدوں سے خطاب کرتے ہوئے صدر آصف علی زرداری کو زبردست تنقید کا نشانہ بنایا۔

گوٹھکی میں جسلۂ گاہ سے بی بی سی اردو کے نامہ نگار علی سلمان نے بتایا کہ شاہ محمود قریشی نے اپنے خطاب میں صدر زرداری کے خلاف سخت زبان استعمال کی۔

شاہ محمود قریشی نے کہا کہ صدر زرداری کی ایوان صدر میں موجودگی میں پاکستان کا جوہری پروگرام محفوظ نہیں ہے۔

تحریک انصاف کےسربراہ عمران خان نے نیٹو حملے میں چوبیس پاکستان فوجیوں کی ہلاکت کے واقعے پر کہا کہ پاکستان کی حکومت کو یہ معاملہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں اٹھانا چاہیے۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان کو اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں کہنا چاہیے کہ امریکہ نے اس کی خودمختاری پر حملہ کیا ہے اور اسے کسی صورت برداشت نہیں کیا جائے گا۔

انہوں نے کہا کہ اب وقت آ گیا ہے کہ پاکستان کو امریکہ کی جنگ سے باہر آ جانا چاہیے۔

اسی بارے میں