بھٹو ریفرنس: ’عدالت جلد سماعت کی تاریخ دے‘

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption صدر زارداری نےس پریم کورٹ کے چیف جسٹس کو خط لکھ کر صدارتی ریفرنس کی سماعت کی تاریخ جلد مقرر کرنے کا مطالبہ کیا۔

پاکستان کے صدر آصف علی زرداری نے سپریم کورٹ کے چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری سے کہا ہے کہ سابق وزیر اعظم اور پاکستان پیپلز پارٹی کے بانی ذوالفقار علی بھٹو کو متنازعہ عدالتی حکم کے تحت دی گئی پھانسی سے متعلق صدارتی ریفرنس کی سماعت کے لیے جلد تاریخ مقرر کی جائے اور اس اہم مقدمے کی روزانہ کی بنیاد پر سماعت کی جائے تاکہ اس کا جلد فیصلہ ہوسکے۔

ایوان صدر کے ترجمان کے مطابق صدر نے یہ بات چیف جسٹس کے نام ایک خط میں کہی ہے۔

خط میں صدر نے جسٹس افتخار محمد چوہدری کو ڈیئر مسٹر چیف جسٹس کہہ کر مخاطب کرتے کہا ہے کہ ’قوم اور تاریخ اس مقدمے کے دوران غیرمنصفانہ عدالتی کارروائی کے نتیجے میں عدالتی عمل پر لگنے والے داغ کے جلد دھلنے اور ریکارڈ کی درستی کا بے چینی سے انتظار کررہی ہیں۔‘

صدر نے کہا ہے کہ مسٹر بھٹو ملکی تاریخ کے عظیم ترین رہنماؤں میں سے ایک تھے جنہوں نے مسلم امّہ، تیسری دنیا اور انسانیت کے لیے گراں قدر اور غیرمعمولی خدمات انجام دیں۔

’انہوں نے لاہور میں کامیابی کے ساتھ اسلامی سربراہی کانفرنس منعقد کی، پاکستان کے جوہری پروگرام کی بنیاد رکھی، ہمارے نوے ہزار جنگی قیدیوں کی باعزت طور پر وطن واپسی کو یقینی بنایا، ملکی عوام کو عزت اور طاقت بخشی، انیس سو تہتر کا آئین دیا جس نے قوم کو متحد کیا اور اسے اسلامی اور جمہوری طرز حکومت دیا۔‘

خط میں کہا گیا ہے کہ ذوالقفار علی بھٹو کی سزائے موت اُس وقت کے فوجی حکمران کی سازش کا نتیجہ تھی۔

’شہید بھٹو کو پاکستان کے آئین کو تباہ کرکے اقتدار پر قبضہ کرنے والے ایک بدنام زمانہ اور ظالم آمر کے حکم پر ختم کیا گیا جسے عالمی طور پر عدالتی قتل قرار دیا گیا۔‘

صدر کی جانب سے یہ ریفرنس اس سال دو اپریل کو عدالت داخل کرایا گیا تھا۔

انہوں نے کہا ہے کہ عدالت نے شروع میں عوامی اہمیت کے اس معاملے کی تیزی سے سماعت کی اور ایوان صدر کے وکیل نے اپنے دلائل جون کے آخری ہفتے میں مکمل کرلیے تھے لیکن اسکے فوری بعد اسکی سماعت ملتوی کردی گئی۔

صدر نے کہا ہے کہ اس معاملے میں اب صرف عدالتی معاون کے دلائل باقی ہیں اور اب جبکہ سپریم کورٹ میں ججوں کی مقررہ تعداد بھی پوری ہوگئی ہے، یہ معاملہ اس بات کا متقاضی ہے کہ اس کی سماعت کی تاریخ جلد از جلد مقرر کی جائے۔

اسی بارے میں