’حالیہ حملے کا بہت سنگین نتیجہ نکل سکتا ہے‘

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption اس کارروائی کا بہت سنگین نتیجہ نکل سکتا ہے: میجر جنرل اطہر عباس

پاکستانی فوج نے کہا ہے کہ گزشتہ تین برس میں نیٹو کے سات سے آٹھ حملوں میں افسران سمیت بہتّر پاکستانی فوجی اہلکار ہلاک ہوچکے ہیں۔

پاکستانی فوج کے ترجمان میجر جنرل اطہر عباس نے کہا کہ گزشتہ تین برس میں ان حملوں کے دوران ڈھائی سو سے زیادہ جوان زخمی بھی ہوئے ہیں۔

میجر جنرل اطہر عباس نے بی بی سی کے جعفر رضوی سے بات کرتے ہوئے کہا ’ہم سمجھتے ہیں کہ اس بار یہ کارروائی جو کی گئی ہے، اس کا بہت سنگین نتیجہ نکل سکتا ہے۔‘

سنگین نتیجہ نکل سکتا ہے: میجر جنرل اطہر عباس، آڈیو

جب میجر جنرل اطہر عباس سے پوچھا گیا کہ نیٹو کی جانب سے پاکستانی فوجیوں کی ہلاکتوں پر افسوس کا اظہار کافی ہے، انہوں نے جواب دیا ’جی نہیں، ہم سمجھتے ہیں کہ یہ کافی نہیں ہے اور ہم اس کو نہیں مانتے کیونکہ اس قسم کی کارروائی ماضی میں بھی ہوتی رہی ہے۔ ہم نہیں سمجھتے کہ یہ بات کسی صورت قابلِ قبول ہوگی۔ اس کے متعلق ہماری قیادت فیصلہ کرے گی کہ اس میں مزید ہمارا کیا ردعمل ہوگا۔‘

پاکستانی فوج کے مطابق نیٹو کے ہیلی کاپٹروں نے جمعہ اور سنیچر کی درمیابی شب مہمند ایجنسی میں پاکستان کی دو سرحدی چوکیوں پر بلااشتعال فائرنگ کی تھی جس میں دو فوجی افسران سمیت چوبیس سکیورٹی اہلکار ہلاک اور تیرہ زخمی ہوگئے تھے۔

تاہم نیٹو اور افغان ذرائع نے بی بی سی کو بتایا ہے کہ سپیشل مشن پر پاکستان کی جانب سے حملہ کیا گیا تھا۔

پاکستانی فوج کے ترجمان نے اس دعوے کی سختی سے تردید کی کہ نیٹو نے جوابی کارروائی کی تھی۔

انہوں نے کہا ’کیا نیٹو یہ بتائے گا کہ اگر حملہ یہاں (پاکستانی حدود) سے کیا گیا ہے تو ان کی طرف سے کوئی ہلاک ہوا ہے یا کسی کو کوئی نقصان پہنچا ہے۔ اس طریقے سے جواز پیدا کرنا اپنے اس اقدام کا جو بلا اشتعال اور بلا جواز ان کی طرف سے کارروائی کی گئی۔ یہ بات بالکل غلط ہے۔‘

جب ان سے اسفسار کیا گیا کہ نیٹو کا کہنا ہے کہ یہ حملہ ایک ’غیر ارادی‘ فعل تھا تو انہوں نے جواب دیا ’اب تحقیقات ہوں گی اس کے بعد ثابت ہوگا لیکن پوسٹوں پر جب فائر شروع ہوا اس وقت ہمیں جو اطلاعات وہاں سے پہنچی، اس میں فوراً ہی جو ان کے نمائندے یہاں موجود ہیں اُن کو اس کے متعلق آگاہ کیا گیا کہ یہ کارروائی وہاں شروع ہوگئی ہے اس کو فوری طور پر بند کرایا جائے لیکن کارروائی جاری رہی۔‘

ان کے بقول ’جب اطلاع آئی کہ شہادتیں ہوگئیں ہیں اور مزید فائر آرہا ہے، اِسے فوراً رکوایا جائے۔ اس کے بعد اگر فوج نے جوابی کارروائی کی تو وہ اس کا حق رکھتے ہیں کہ جوابی کارروائی کی جائے۔ اگر نیٹو یا ایساف اس کے متعلق بتارہے ہیں کہ وہاں سے فائر آیا تو یہ تحقیقات سے ثابت ہوگا کہ ردعمل میں کس قسم کا فائر اُن ہیلی کاپٹروں پر لگا۔‘

اسی بارے میں