نیٹو سپلائی بند، تیل کے ٹینکر پشاور روانہ

پاکستان کے قبائلی علاقے خیبر ایجنسی میں پاک افغان سرحد پر درجنوں آئل ٹینکروں کو حکام نے واپس پشاور کی جانب روانہ کر دیا ہے جبکہ آل پاکستان ٹینکرز ایسوسی ایشن نے مہمند ایجنسی میں نیٹو حملے کے خلاف پاک فوج کی مکمل حمایت کا اعلان کیا ہے۔

تنظیم نے کہا ہے کہ جب تک ڈرون حملے اور نیٹو کی کارروائیاں بند نہیں ہوتیں وہ افغانستان میں نیٹو افواج کو تیل فراہم نہیں کریں گے۔

خیبر ایجنسی کے سرحدی علاقے لنڈی کوتل کی سیاسی انتظامیہ کے حکام نے بی بی سی کو بتایا ہے کہ دو درجن کے لگ بھگ آئل ٹینکر پاک افغان سرحد پر پہنچے تھے مگر حکومت کی جانب سے نیٹو افواج کو فراہمی بند کرنے کے فیصلے کے بعد ان ٹینکروں کو واپس پشاور کی جانب روانہ کر دیا گیا ہے۔

حکام کا کہنا ہے کہ پاک افغان سرحد کے قریب جگہ کی قلت کی وجہ سے ان ٹینکروں کو کھڑا نہیں رکھا جا سکتا اور بڑی تعداد میں ٹینکروں اور کنٹینروں کی وجہ سے رش بڑھ جاتا ہے۔

تین روز پہلے پاکستان کے قبائلی علاقے مہمند ایجنسی کی سلالہ چیک پوسٹ پر افغانستان سے آئے نیٹو کے ہیلی کاپٹروں نے حملہ کر دیا تھا جس میں چوبیس پاکستانی اہلکار ہلاک اور چودہ زخمی ہو گئے تھے۔

پاکستان نے اس کارروائی پر سخت احتجاج کرتے ہوئے افغانستان میں نیٹو افواج کو تیل کی فراہمی روکنے اور بلوچستان میں شمسی ائیر بیس ایک ماہ کے اندر خالی کرانے کا اعلان کیا تھا۔

ادھر آل پاکستان ٹینکرز ایسوسی ایشن کے جنرل سیکرٹری نواب شیر کا کہنا ہے کہ انھوں نے ایسوسی ایشن کا ہنگامی اجلا س طلب کیا اور نیٹو حملے کے واقعہ کے بعد چالیس روز تک سوگ کا اعلان کیا ہے اور اس دوران کوئی ٹینکر بھی افغانستان نہیں جائے گا۔

ان کا کہنا تھا کہ پاکستان کی امریکہ کے ساتھ جو بھی پالیسی ہو وہ اپنی جگہ لیکن وہ چالیس روز تک سوگ منائیں گے۔

نواب شیر نے کہا کہ تمام آئل ٹینکر مالکان کو بھی مطلع کر دیا گیا ہے اور تیل فراہم کرنے والی کمپنیوں کو بھی خطوط لکھ دیے گئے ہیں تاکہ وہ ٹینکروں کو تیل فراہم نہ کریں۔

کراچی سے تقریبا تیس فیصد ٹینکر کوئٹہ کے راستے چمن بارڈر عبور کر کے قندھار شہر کو تیل فراہم کرتے ہیں جبکہ تقریبا ستر فیصد ٹینکر پشاور کے راستے لنڈی کوتل سے ہوتے ہوئے کابل ، بگرام اور جلال آباد میں قائم اڈوں کو تیل فراہم کرتے ہیں۔

ایک سوال کے جواب میں نواب شیر نے کہا کہ نیٹو کو تیل فراہم کرنا جان جوکھوں کا کام ہے اور ہر جگہ انھیں خطرات لاحق ہوتے ہیں اور وہ یہ کام صرف اس لیے کرتے ہیں کیونکہ ان کے پاس روز گار کے دیگر ذرائع نہیں ہیں۔

نیٹو کو تیل سپلائی کرنے والے ایک ٹینکر کے مالک اسرار خان نے بی بی سی کو بتایا کہ انھیں مالی نقصان ہو رہا ہے کیونکہ ہر ٹینکر کے افغانستان جانے اور واپس آنے پر لگ بھگ چار لاکھ روپے تک خرچہ آتا ہے۔ اس کے علاوہ جب تک ٹینکر کھڑے رہیں تو ڈرائیوروں اور کنڈیکٹرز کا روزانہ کا خرچ بڑھتا جاتا ہے۔

انھوں نے کہا کہ ماضی میں جب جنوبی وزیرستان ایجنسی میں نیٹو نے حملہ کیا تھا اس کے بعد بھی ٹینکروں کو نقصان پہنچا تھا اور اب بھی انھیں خطرہ لاحق ہے ۔ ان کے ٹینکر جہاں بھی کھڑے ہوں گے انھیں خطرہ لاحق ہوگا۔

اسرار خان نے کہا کہ وہ اپنی تنظیم کے فیصلے کے پابند ہیں اور جب تک اقوام متحدہ اس کی بات کی یقین دہانی نہیں کراتی کہ آئندہ پاکستان میں کہیں بھی نہ تو ڈرون حملے ہوں گے اور نہ ہی سرحد پار سے نیٹو کے جہاز آ کر حملے کریں گے، تب تک وہ نیٹو کو تیل کی فراہمی نہیں کریں گے۔

ان سے جب پوچھا کہ اقوام متحدہ کی اس یقین دہانی کے بغیر ہی اگر پاکستان حکومت کا امریکہ کے ساتھ معاملہ سلجھ جاتا ہے اور پاکستان حکومت اجازت دے دیتی ہے کہ نیٹو کو تیل فراہم کیا جائے تب وہ کیا کریں گے تو اس پر انھوں نے کہا کہ وہ اپنی تنظیم کا اجلاس طلب کرکے اس بات پھر غور کریں گے۔