متاثرینِ سیلاب کے لیے فوری امداد کی اپیل

پاکستان میں عالمی امدادی اداروں کی کارکردگی بہتر بنانے کے لیے قائم کیے گئے ’پی ایچ ایف یا پاکستان ہیومنیٹیرین فورم‘ نامی ادارے نے مغربی حکومتوں سے ملک میں متاثرینِ سیلاب کو فوری امداد فراہم کرنے کی اپیل کی ہے۔

اکتالیس بین الاقوامی امدادی تنظیموں کے اتحاد پی ایچ ایف کی جانب سے پیش کی جانے والی ایک پریس ریلیز کے مطابق رواں سال جنوبی پاکستان میں آنے والے سیلاب کے باعث پچاس لاکھ سے زائد افراد متاثر ہوئے ہیں جبکہ فنڈنگ کی قلت اور عالمی بے حسی کی وجہ سے سیلاب کے تین ماہ بعد اب بھی لاکھوں افراد کی زندگیاں خطرے میں ہیں۔

اقوامِ متحدہ کے مطابق پاکستان میں متاثرینِ سیلاب کے لیے تین سو ستاون ملین ڈالر کی ایمرجنسی امداد میں سے اب تک صرف سینتیس فیصد فنڈز ملے ہیں۔

امداد فراہم کرنے والے ممالک کا کہنا ہے کہ اقتصادی حالات کے باعث ان کے لیے اس سے زیادہ امداد دینا مشکل ہے۔

واضح رہے کہ پاکستان کے صوبہ سندھ اور بلوچستان میں آنے والے سیلاب کے باعث وہاں تیس لاکھ بچوں کو غذائیت کی کمی کا سامنا ہے جبکہ ایک لاکھ ساٹھ ہزار خواتین حاملہ ہیں اور چوالیس فیصد گھرانوں کو فوری مرمت کی ضرورت ہے۔

پی ایچ ایف کے چیئرمین جیک بائرن کا کہنا ہے ’گزشتہ سال آنے والے سیلاب میں بیرونِ ملک سے کافی امداد آئی تھی لیکن اس سال ایسا نہیں ہوا اور اس واقعے کو اہمیت نہیں دی گئی۔‘

انھوں نے کہا ’یہ معمولی مسئلہ نہیں ہے بلکہ ایک بحران ہے۔ مقامی حکومتی ادارے سیلاب کے بڑے پیمانے پر آنے سے بہت پریشان ہیں اور انھیں متاثرین کو موت، بیماری اور غذائیت کی کمی سے بچانے کے لیے عالمی امداد کی اشد ضرورت ہے۔‘

عالمی امدادی ادارے اوکسفیم کے ڈائریکٹر برائے پاکستان نیوا خان کا کہنا ہے ’سیلاب کے تین ماہ بعد بھی متاثرین کو روزمرہ کی عام ضروریات میسر نہیں ہیں اور موسمِ سرما کے آنے سے حالات مزید خراب ہو جائیں گے۔‘