امریکی حملہ کیوں؟

تصویر کے کاپی رائٹ
Image caption پاکستانی اہلکار کنٹر صوبے میں سرگرم پاکستان مخالف طالبان کے خلاف کارروائی نہ ہونے کی شکایت کرتے رہے ہیں

پاکستان کی مہمند ایجنسی میں فوجی چوکی پر نیٹو کے حملے میں چوبیس فوجیوں کی ہلاکت کے بعد پاکستانی ردِ عمل کی وجہ سے امریکہ اور پاکستان کے تعلقات کافی کشیدہ ہوچکے ہیں اور فریقین معاملات بہتر بنانے کی کوشش میں مصروف ہیں۔

نائن الیون کے بعد پاکستان اور امریکہ کی دہشت گردی کے خلاف جنگ میں شراکت کو ایک دہائی بیت چکی ہے لیکن دونوں میں بظاہر بداعتمادی کی فضا بتدریج بڑھتی جا رہی ہے۔

دونوں ممالک کے تعلقات میں اتار چڑھاؤ تو ماضی میں بھی دیکھنے کو ملتا رہا لیکن شمالی اور جنوبی وزیرستان میں حقانی نیٹ ورک، حافظ گل بہادر اور مولوی نذیر کے گروہوں کے خلاف امریکہ کی فرمائش پر پاکستانی فوج کی جانب سے کارروائی نہ کرنے کی وجہ سے معاملات پیچیدہ ہوتے چلے گئے۔

شمالی اور جنوبی وزیرستان میں متعلقہ گروہوں کے خلاف پاکستانی فوج کی کارروائی نہ کرنے کی وجہ سے ہی اچانک افغانستان کے صوبے کنڑ سے مہمند، باجوڑ اور ملاکنڈ میں شدت پسند گروہوں نے پاکستانی سیکورٹی فورسز پر حملے شروع کیے۔

افغانستان کے کنڑ صوبے سے نیٹو اور امریکی اتحادی فوجوں نے اپنی کچھ چوکیاں ختم کر لیں اور انہوں نے زیادہ توجہ خوست اور پکتیکا پر مرکوز کرلی۔ کیونکہ وہی علاقے مبینہ طور پر حقانی نیٹ ورک، حافظ گل بہادر اور مولوی نذیر کے لوگوں کا افغانستان میں گھس کر امریکیوں کو نشانہ بنانے کا گیٹ وے ہے۔

لیکن کنڑ سے پاکستان میں شدت پسندوں کے حملوں کے بعد پاکستانی فوج نے مہمند ایجنسی پر اپنی توجہ زیادہ مرکوز کی اور نفری میں بھی اضافہ کر دیا۔ مہمند ایجنسی میں رواں سال کی ابتدا میں فوجی کارروائی تیز ہوئی۔ پاکستانی فوج نے رواں سال یکم جون کو اسلام آباد سے صحافیوں کو مہمند ایجنسی کا دورہ کرایا۔

مہمند ایجنسی میں تعینات برگیڈیئر عرفان کیانی نے صحافیوں کو بتایا تھا کہ مہمند ایجنسی کی اڑسٹھ کلومیٹر سرحد افغانستان سے ملتی ہے۔ چھ لاکھ آبادی والی مہمند ایجنسی کی کل سات تحصلیں ہیں۔ ان کے بقول جھنڈا نامی گاؤں کے آس پاس کے علاقے میں طالبان کمانڈر عبدالولی کا قبضہ تھا جو فوج نے ختم کرایا اور وہ افغانستان کے کنڑ صوبے چلے گئے۔

بعد میں مہمند ایجنسی کے فوجی صدر دفتر غلنئی میں پشاور کے کور کمانڈر کی موجودگی میں برگیڈیئر آفتاب احمد خان نے بریفنگ میں بتایا کہ افغانستان کے صوبے کنٹر سے ملنے والی مہمند ایجنسی کی ایک تحصیل صافی میں گڑ بڑ ہے اور اس تحصیل کا بیس فیصد علاقہ طالبان شدت پسندوں کے قبضے میں ہے۔

بریفنگ میں پاکستانی فوجی کمانڈرز نے یہ بات واضح طور پر بتائی کہ وہ ایساف والوں کو بتاتے رہے ہیں کہ سوات، ملاکنڈ اور مہمند سے بھاگے ہوئے طالبان کنڑ میں ہیں اور وہ پاکستان پر حملہ کرتے ہیں لیکن امریکی اتحادی افواج ان شدت پسندوں کے خلاف وہ کارروائی نہیں کرتے۔

میجر جنرل نادر زیب خان نے سلالہ کی چیک پوسٹ کی طرف اشارہ کرتے ہوئے بتایا تھا کہ یہ چیک پوسٹ انتہائی اہمیت کی حامل ہے کیونکہ یہاں سے کنڑ کی طرف سے آنے والے شدت پسندوں پر اچھی طرح نظر رکھی جاسکتی ہے۔ ان کے بقول یہ چیک پوسٹ انہوں نے بڑی مشکل سے قائم کی ہے اور وہاں لاجسٹک سپورٹ بھی مشکل ہوتی ہے کیونکہ اکثر طور پر اس کے لیے ہیلی کاپٹر استعمال کرنا پڑتا ہے۔

مہمند ایجنسی میں مختلف فوجی کمانڈروں کی بریفنگ کے بعد یہ بات واضح سمجھ میں آئی کہ پاکستانی فوج شمالی اور جنوبی وزیرستان میں کارروائی کے لیے تیار نہیں کیونکہ بات ہے ادلے کے بدلے کی۔