ہنگو میں دھماکہ،امن کمیٹی کے سربراہ ہلاک

Image caption ہنگو خیبر پختونخوا کے باقی تمام اضلاع کے مقابلے میں فرقہ واریت کے لحاظ سے انتہائی حساس علاقہ ہے

پاکستان کے صوبہ خیبر پختونخوا کے ضلع ہنگو میں ہونے والے دھماکے میں طالبان مخالف امن کیمٹی کے سربراہ ہلاک اور ان کا ڈرائیور اور محافظ شدید زخمی ہوگئے ہیں۔

ہنگو میں ایک پولیس افسر اسلام الدین نے بی بی سی کو بتایا کہ شہر کے مشرقی حصے میں کوہاٹ روڈ پر ایک سی این جی پمپ کے قریب ملا خیل امن کیمٹی کے سربراہ حاجی ہاشم کی گاڑی میں اس وقت دھماکہ ہوا جب وہ کچہری سے نکل کر سی این جی پمپ کی طرف جارہے تھے۔

انہوں نے کہا کہ دھماکے میں گاڑی مکمل طور پر تباہ ہوگئی ہے۔ اہلکار کا کہنا تھا کہ نامعلوم شدت پسندوں نے پہلے ہی گاڑی کے نچلے حصے میں بارودی مواد نصب کیا تھا جو چلتی گاڑی میں اچانک ایک زوردار دھماکے سے پھٹ گیا۔

اہلکار کے مطابق زخمیوں کو ہنگو ضلعی ہسپتال منتقل کیا گیا ہے۔

انہوں نے بتایا کہ دھماکے کے بعد پولیس کی بھاری نفری علاقے میں پہنچ گئی لیکن ابھی تک کسی قسم کی گرفتاری عمل میں نہیں آئی ہے۔ پولیس اہلکار کے مطابق حاجی ہاشم خان طالبان شدت پسندوں کے سخت مخالف تھے اور اُنہیں پہلے بھی کئی بار قتل کی دھمکیاں مل چکی تھی۔

ابھی تک کسی نے اس واقعے کی ذمہ داری قبول نہیں کی ہے البتہ طالبان شدت پسند عموماً اس طرح کے واقعات کی ذمہ داریاں قبول کرلیتے ہیں۔

یاد رہے کہ ضلع ہنگو خیبر پختونخوا کے باقی تمام اضلاع کے مقابلے میں فرقہ واریت کے لحاظ سے انتہائی حساس ہے اور یہ واقعہ ایک ایسے وقت پر پیش آیا ہے جب محرم الحرام کی وجہ سے سکیورٹی کے خاص انتظامات کیے گئے ہیں اور چند دن پہلے فوج اور ایف سی کے تازہ دستے بھی ہنگو پہنچ چکے ہیں۔