کراچی سے چار مبینہ دہشتگردگرفتار

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service

کراچی میں پولیس نے چار مبینہ دہشت گردوں کو گرفتار کر کے اسلحہ اور بارود برآمد کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ ملزم محرم الحرام میں دہشت گردی کا ارادہ رکھتے تھے۔

ایس پی سی آئی ڈی چوہدری اسلم نے ایک پریس کانفرنس میں بتایا کہ کراچی کے علاقے موچکو سے عبدالستار عرف شیخ، محمد شعیب، شاہ فہد اور نصراللہ مجاہد کو گرفتار کیا گیا ہے، جن کا تعلق کالعدم تنطیم تحریک طالبان سے ہے۔

پولیس نے ملزمان سے خودکش حملے میں استعمال ہونے والی تین تیار جیکٹیں، چھ دستی بم، بیس کلو دھماکہ خیز مادہ، تیس فٹ ڈیٹونیٹر تار، تین کلاشنکوف اور ایک نائن ایم ایم پستول برآمد کی ہے۔

ایس پی چوہدری اسلم نے بتایا کہ ملزم قبائلی علاقے سے بس کے ذریعے اسلحہ بارود لے کر کراچی پہنچے تھے اور عاشورہ کے دن تخریب کاری کا ارادہ رکھتے تھے۔ ملزمان کے مزید ساتھی مفرور ہیں جن کی گرفتاری کے لیے چھاپے مارے جا رہے ہیں۔

چوہدری اسلم کے مطابق ملزمان نے دورانِ تفتیش بتایا ہے کہ انہوں نے سٹی کورٹ کے قریب ایک تاجر آتما رام پر فائرنگ کی تھی جس میں وہ زخمی ہوگیا تھا۔

واضح رہے کہ رواں ہفتے میں پولیس نے مبینہ تخریب کاروں کا یہ دوسرا گروہ گرفتار کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔ اس سے پہلے پولیس نے شدت پسند تنظیم جنداللہ کے چار ارکان گرفتار کرنے کا دعویٰ کیا تھا جن کے بارے میں پولیس کا یہ ہی دعویٰ تھا کہ وہ محرم میں تخریب کاری کا ارادہ رکھتے تھے۔

دوسری جانب اہلسنت جماعتوں نے نمائش چورنگی پر جمعہ نماز کے بعد مجوزہ دھرنا ملتوی کرنے کا اعلان کیا ہے۔ اہلسنت الجماعت کے رہنما اورنگزیب فاروقی نے بی بی سی کو بتایا کہ مفتی نعیم کے گورنر سے مذاکرات ہوئے اور آئی جی اور ڈی آئی جی سے ملاقات بھی ہوئی ہے ۔

ان کے مطابق پولیس نے ان کے گرفتار سو سے زائد کارکن رہا کر دیے ہیں، جس کے بعد ملکی سلامتی اور محرم الحرام کے احترام میں یہ دھرنا ملتوی کردیا گیا ہے۔ یاد رہے کہ نمائش چورنگی پر فائرنگ میں تین اسکاؤٹس کی ہلاکت کے بعد گرفتاریوں کے خلاف اہلسنت جماعتوں نے نمائش چورنگی پر دھرنے کا اعلان کیا تھا۔

اسی بارے میں