منصور اعجاز مجھ سے ملے تھے:صلاح الدین

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service

بھارت کے زیر انتظام کشمیر میں برسرپیکار اہم کشمیری عسکری تنظیم حزب المجاہدین کے سربراہ سید صلاح الدین نےانکشاف کیا ہے کہ پاکستانی نژاد امریکی کاروباری شخصیت اور متنازعہ میمو کے مرکزی کردار منصور اعجاز نےسنہ دو ہزار میں مبینہ طور پر اس وقت کی امریکی انتظامیہ کی ایما پر ان سے دو مرتبہ ملاقات کی جس میں انھوں نے کشمیری رہنما کو وادی کشمیر میں فائر بندی جاری رکھنے پر قائل کرنے کی کوشش کی تھی۔

اس سے پہلے بھارت کی ایک ویب سائٹ تہلکہ ڈاٹ کام نے گذشتہ ہفتے ایک رپورٹ شائع کی تھی جس میں اس نے منصور اعجاز کا دو ہزار ایک میں پاکستان کے انگریزی اخبار دی نیوز کو دیے گیے انٹرویو کا حوالہ دیا گیا جس میں منصور اعجاز نے سید صلاح الدین کے ساتھ ملاقاتوں کا ذکر کیا تھا۔

بی بی سی سے بات کرتے ہوئے سید صلاح الدین نے بتایا کہ یہ ملاقاتیں اگست سنہ دو ہزار میں وادی کشمیر میں فائر بندی ختم کرنے کے فیصلے کے فوری بعد اسلام آباد اور مظفرآباد میں ہوئی تھیں۔

ان کا کہنا ہے کہ اسلام آباد میں ہونے والی پہلی ملاقات میں منصور اعجاز کے ہمراہ پاکستان کی طاقتور خفیہ ایجنسی آئی ایس آئی کے سابق اہلکار خواجہ خالد بھی تھے جبکہ مظفرآباد میں ہونے والی دوسری ملاقات میں منصور اعجاز کے ہمراہ ان کی والدہ تھیں۔

آئی ایس آئی کے سابق اہلکار خالد خواجہ کو طالبان نے حال ہی میں اغواء کر کے بعد قتل کردیا ہے۔

سید صلاح الدین کا کہنا ہے کہ انھوں نے منصور اعجاز کو صاف الفاظ میں کہہ دیا تھا کہ وہ فائر بندی ختم کرنے کا فیصلہ اس لیے واپس نہیں لیں گے کیونکہ بھارت مخلص نہیں ہے، وہ تاخیری حربے آزما رہا ہے اور ایسی صورت میں فائر بندی سے صرف نقصان ہی ہوگا۔

’انھوں (اعجاز منصور) نے جب ( فائر بندی ختم کرنے کے فیصلے کو واپس لینے کے لیے) زیادہ اصرار کیا تو میں نے انہیں منع کیا کہ وہ آئندہ اس معاملے کے بارے میں مجھ سے نہ ملیں اور اس کے بعد وہ مجھ سے نہیں ملے۔‘

کشمیری عسکری تنظیم حزب المجاہدین کے مقتول آپریشنل چیف عبدالمجید ڈار نے چوبیس جولائی سنہ دو ہزار کو وادی کشمیر میں تین ماہ کے لیے جنگ بندی کا اعلان کیا تھا اور بھارت کے ساتھ بات چیت شروع کی تھی۔

لیکن دو ہفتے بعد ہی آٹھ اگست کو تنظیم کے سربراہ سید صلاح الدین نے اسلام آباد میں ایک نیوز کانفرنس میں جنگ بندی کا اعلان یہ کہہ کر واپس لے لیا کہ ہندوستان نے پاکستان کو تنازعہ کشمیر کے حل کے لیے سہہ فریقی بات چیت میں شامل کرنے سے انکار کردیا ہے۔

سید صلاح الدین نے کہا کہ منصور اعجاز نے یہ پیشکش بھی کی کہ اگر فائر بندی ختم کرنے کا فیصلہ واپس لیا جائے اور فائر بندی برقرار رکھی جائے تومسلح جدوجہد کے نتیجے میں متاثر ہونے والی وادی کشمیر کی تعمیر نو کے لیے وہ اقتصادی امداد کی فراہمی میں مدد کریں گے۔

سید صلاح الدین نے کہا کہ انھوں نے یہ پیشکش یہ کہہ کر مسترد کردی تھی کہ جب بھارت سے آزادی حاصل ہوگی تو اس کے بعد پوری دنیا تعمیر نو کے لیے خود مدد کرے گی۔

سید صلاح الدین نے کہا کہ منصور اعجاز نے یہ بتایا تھا کہ وہ یہ ملاقاتیں امریکہ میں اس وقت کی بل کلنٹن کی انتظامیہ کی آشیرباد سے کررہے ہیں۔

’انھوں (اعجاز منصور) نے کہا کہ میں وائٹ ہاوس کا خاص بندہ ہوں اور وائٹ ہاوس کے ایماء پر مسلمانوں کے معاملات دیکھتا ہوں۔‘

سید صلاح الدین کا کہنا ہے کہ اعجاز منصور نے اس کے ثبوت میں ایک تصویر بھی دکھائی تھی جس میں ایک جانب اس وقت کے امریکی صدر بل کلنٹن اور دوسری جانب ان کی اہلیہ ہلیری کلنٹن تھیں جبکہ درمیان میں منصور اعجاز تھے۔

کشمیری رہنما سید صلاح الدین نے منصور اعجاز کے ساتھ اپنی ملاقات کی تصدیق ایک ایسے مرحلے پر کی جب امریکہ میں تعینات سابق پاکستانی سفیر حسین حقانی کے استعفے کے معاملے میں منصور اعجاز ایک بڑے تنازعے کا موضوع بنے ہوئے ہیں۔

اسی بارے میں