میمو تحقیقات: میاں صاحب کا فائدہ ہی فائدہ؟

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption نواز شریف کی جانب سے خود کالی ٹائی اور کوٹ پہن کر سپریم کورٹ میں وکالت کرنے سے اس معاملے کی اہمیت حد سے زیادہ بڑھ گئی

پاکستان کی فوجی چوکی پر نیٹو کے حملے کے بعد ایسا محسوس ہو رہا تھا کہ متنازعہ میمو کا معاملہ دب جائےگا لیکن سپریم کورٹ نے معاملے کی تحقیقات کا حکم جاری کر کے اسے ایک بار پھر زندہ کر دیا ہے۔

ابتدائی عدالتی کارروائی سے ایسا محسوس ہوتا ہے کہ یہ معاملہ آئندہ دنوں میں ذرائع ابلاغ کی زینت بنا رہےگا۔

حکومت نے پہلے ہی معاملے کی تحقیق کے لیے پارلیمان کی قومی سلامتی کے بارے میں خصوصی کمیٹی کو اسے سونپ رکھا ہے ایسے میں سپریم کورٹ نے سماعت کا فیصلہ کیوں کیا؟

میاں نواز شریف کے بقول ان کی جماعت نے یہ معاملہ پارلیمان میں اٹھایا لیکن وہاں حکومت کی جانب سے معقول جواب نہ ملنے پر انہوں نے سپریم کورٹ سے رجوع کیا ہے۔

اگر میاں نواز شریف صاحب کی دلیل مان بھی لی جائے تو سوال پیدا ہوتا ہے کہ پارلیمان کی بالادستی کہاں گئی؟ کیا مسلم لیگ (ن) خود ہی پارلیمان کی بالا دستی کو ’سرینڈر‘ کر رہی ہے؟

میاں رضا ربانی کی سربراہی میں پارلیمان کی قومی سلامتی کی کمیٹی نے پہلے ہی میمو گیٹ کے معاملے کا نوٹس لے رکھا ہے اور وضاحت کے لیے دفاع اور خارجہ وزارتوں کے سیکرٹریوں کو طلب کیا ہوا ہے۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ یہ کمیٹی کیا فیصلہ کرتی ہے؟

میاں نواز شریف کی جانب سے خود کالی ٹائی اور کوٹ پہن کر سپریم کورٹ میں وکالت کرنے سے اس کی اہمیت حد سے زیادہ بڑھ گئی ہے۔

ظاہر ہے کہ میاں صاحب نے سوچ سمجھ کر ہی سپریم کورٹ کے فورم کا انتخاب کیا ہے کیونکہ انہیں معلوم ہے کہ ’میمو گیٹ‘ کے مقدمے کا فیصلہ ’چُھری اور خربوزے‘ کی مثال کے مانند ہوگا۔ اس مقدمے میں حکومت کا دامن داغدار ثابت ہو یا فوج کا دونوں صورتوں میں میاں صاحب کا تو فائدہ ہی فائدہ ہے۔

لیکن سپریم کورٹ میں اس مقدمے کی سماعت سے بہت سے سوالات جنم لے رہے ہیں۔ مثال کے طور پر اس سارے معاملے میں شواہد اکٹھے کرنے اور تحقیقات انتظامیہ کے تحقیقاتی ادارے کے دائرہ کار میں آتا ہے۔

لیکن سپریم کورٹ نے تو یہ معاملہ کسی ریاستی ادارے کو سونپنے کی بجائے سپریم کورٹ کے ایک حاضر سروس جج کے بھائی اور ریٹائرڈ پولیس افسر طارق کھوسہ کی سربراہی میں کمیٹی بنائی ہے۔ طارق کھوسہ کو ایک ایماندار افسر تصور کیا جاتا ہے لیکن یہاں سوال ان کی نجی حیثیت میں تحقیقات کا ہے۔

اگر اہم معاملات میں ریاستی اداروں کو نظر انداز کرکے نجی طور پر تحقیقات کرانے یا شواہد اکٹھے کرنے کی رسم چل پڑی تو بات پھر اس مقدمے تک نہیں رکےگی بلکہ اس سے ریاستی ڈھانچہ ہل سکتا ہے۔

اسی بارے میں