قبائلی عوام امن کمیٹیوں سے نالاں کیوں؟

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption علاقے کے حالات مزید بدتر کرنے میں امن کمیٹیوں کا بڑا ہاتھ ہے:متاثرہ شخص

پاکستان کے قبائلی علاقوں کے عوام کی زندگی جہاں طالبان شدت پسندوں کے ہاتھوں محفوظ نہیں وہیں انہی طالبان سے مقابلہ کرنے کے لیے بنائی گئی امن کمیٹیوں نے بھی عام قبائلیوں کو خوفزدہ کر رکھا ہے اور کئی خاندانوں کی اپنے آبائی علاقوں سے نقل مکانی کی وجہ یہ امن لشکر بھی ہیں۔

مہمند ایجنسی سے تعلق رکھنے والے بائیس سالہ تفسیر خان کا تعلق بھی ایک ایسے ہی خاندان سے ہے جو پانچ برس پہلے ہجرت کر کے پشاور آیا۔ تفسیر ڈاکٹر بننے کے خواہشمند تھے لیکن بارہویں جماعت تک ہی تعلیم حاصل کر پائے اور ان کا اعلٰی تعلیم حاصل کرنے کا یہ خواب ادھورا ہی رہ گیا۔

یہ خواب پورا نہ ہونے کی وجہ تفسیر کے والد کی ناگہانی ہلاکت تھی۔

عوام امن لشکر سے بھی’ نالاں‘: سنیے

تفسیر اب ٹیکسی چلا کر گزر بسر کرتے ہیں۔ بی بی سی سے بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ’مجھے پڑھنے کا بہت شوق ہے لیکن اب تو زندگی کا مزہ ہی نہیں رہا کیونکہ مجھ پر چھوٹے بھائی کی تعلیم اور بہن کی شادی کے ساتھ ساتھ گھر چلانے کی ذمہ داری آن پڑی ہے۔‘

تفسیر خان کے والد مقامی شاعر محمد نذیرگھر سے سودا لینے نکلے تھے کہ انہیں اغوا کر لیا گیا اور دو دن بعد ان کی لاش ملی۔ ان کی ہلاکت کی ذمہ داری خوائزئی امن کمیٹی کے رکن ثمر گل نے قبول کی تھی۔

اُنھوں نے محمد نذیر پر الزام عائد کیا تھا کہ وہ طالبان کے حامی تھے لیکن تفسیر خان یہ الزام مسترد کرتے ہیں۔

انہوں نے کہا ’ایک قومی شاعر جو اپنے علاقے کے لوگوں کے جذبات اور مسائل کی ترجمانی کرتا تھا اور پانچ برسوں سے اپنا آبائی علاقہ چھوڑکر پشاور میں مقیم تھا، وہ کیسے شدت پسندی کر سکتا ہے‘۔ تفسیر کےخیال میں ان کے والد کا قتل ذاتی تنازعات کی وجہ سے ہوا ہے۔

تفسیر کا خاندان امن کمیٹی کے کسی رکن کا نشانہ بننے والا واحد خاندان نہیں بلکہ پشاور میں مہمند ایجنسی سے نقل مکانی کر کے آنے والے بہت سے ایسے خاندان موجود ہیں جو نہ صرف طالبان بلکہ ان کے خلاف بننے والے امن لشکروں سے بھی خوفزدہ ہیں اور انہی کی وجہ سے وہ اپنا گھر بار چھوڑنے پر مجبور ہوئے ہیں۔

بی بی سی سے بات کرنے والے ایسے ہی ایک شخص نے اسی خوف کی وجہ سے اپنی شناخت ظاہر نہ کرنے کی بھی درخواست کی جس کی بناء پر انہیں فرضی نام گل خان دیا جا رہا ہے۔

گل خان نے بتایا کہ مہمند ایجنسی میں امن لشکر کے ارکان لوگوں کے گھروں میں زبردستی داخل ہوکر لوٹ مار کرتے ہیں۔

ان کے بقول وہ نہ صرف رقم کا مطالبہ کرتے ہیں بلکہ لوگوں کے موبائل فون اور کھانے پینے کی چیزیں بھی اٹھا لے جاتے ہیں۔ انہوں نے الزام لگایا کہ حکومت کے حامی لشکر کے زیادہ تر اراکین جرائم پیشہ ہیں اور’اس علاقے کے حالات مزید بدتر کرنے میں امن کمیٹیوں کا بڑا ہاتھ ہے‘۔

تاہم پشاور میں مسلم لیگ قاف کے صدر اور علاقے متنی کے امن لشکر کے سربراہ دلاور خان ان الزمات کی تردید کرتے ہیں۔ ’امن لشکر کے لوگ بھی انسان ہیں، فرشتے نہیں۔ غلطی تو ان سے بھی ہو سکتی ہے مگر میرے خیال میں یہ الزامات بے بنیاد ہیں۔کسی کے پاس کوئی ثبوت ہے تو پیش کرے‘۔

حکومت کے حامی امن لشکروں پر ان الزامات میں کتنی صداقت ہے ،اس بابت ’طالبان ورسز اینٹی طالبان‘ کی مصنفہ اور اوسلو یونیورسٹی کی محقق فرحت تاج کا کہنا ہے کہ بہت امکان ہے کہ یہ الزامات درست ہوں۔

انہوں نے کہا کہ یہ امن کمیٹیاں مقامی لوگوں کے مشورے سے نہیں بنائی گئیں۔’حکومت نے اپنی مرضی سے امن کارکن چنے تو ظاہر ہے جنگ جتنی طویل ہوتی جائے گی اس سے منسلک لوگ اس سے فائدہ اٹھاتے رہیں گے‘۔

ان کے مطابق دہشت گردی کے خلاف جنگ شروع ہونے سے پہلے جو جرگہ یا امن لشکر بنا کرتے تھے ان میں قبیلہ کے بزرگ شامل ہوتے تھے جو پرامن طریقے سے مسائل حل کیا کرتے تھے اور معاملے نمٹنے کے بعد لشکر خود بخود ختم ہو جایا کرتے تھے۔ اب ان بزرگان کو تو قتل کر دیا گیا ہے اور حکومت نے آج تک ان کی ہلاکت کی تحقیقات نہیں کروائی۔

امن کمیٹی ہو یا طالبان شدت پسند، پاکستانی قبائلی علاقوں کے عوام دونوں طرف سے خطرات کا شکار ہیں۔ ایک کی حمایت دوسرے کی جانب سے موت کا پیغام لانے کا باعث بن سکتی ہے۔ ایسے میں غیر جانبدار رہنما قبائلی علاقوں کے عوام کے لیے ممکن نظر نہیں آتا۔

اسی بارے میں