ایڈز:’معاشرے کی سوچ میں تبدیلی آ رہی ہے‘

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption لاڑکانہ میں ایڈز کے مریضوں کی تعداد دیگر علاقوں سے زیادہ ہے

پاکستان میں ایڈز کے مریضوں کی تعداد ایک لاکھ چھ ہزار تک پہنچ گئی ہے اور صوبہ سندھ کے ایڈز کنٹرول پروگرام کے مطابق ان مریضوں میں سے نصف کا تعلق صوبہ سندھ سے ہے۔

یکم دسمبر کو دنیا بھر میں ایڈز سے آگاہی کا عالمی دن منایا جاتا ہے۔

اسی سلسلے میں سندھ میں ایڈز کنٹرول پروگرام کے ڈپٹی پروگرام مینیجر قمر عباس نے بی بی سی اردو سے بات کرتے ہوئے بتایا ہے کہ سندھ میں حکومتی اور نجی سطح پر جو نیٹ ورک بنایا گیا ہے، اس سے لوگوں میں ایڈز کے بارے میں شعور پیدا ہورہا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ ’جو لوگ پہلے اسے بدنامی کا سبب سمجھتے تھے اب ان کی سوچ میں تبدیلی آرہی ہے اور اس تبدیلی کی وجہ سے اس مرض کی تشخیص میں اضافہ ہو رہا ہے‘۔

سندھ میں غیر سرکاری تنظیموں کی مدد سے کچھ سیکس ورکرز، خواجہ سراؤں، ٹرک ڈرائیوروں اور نشہ آور انجکشن استعمال کرنے والوں کے ٹیسٹ بھی کیے گئے جن میں سے چند لوگ ایچ آئی وی پازیٹو سامنے آئے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ دنیا بھر کی طرح پاکستان میں بھی ایڈز کے پھیلاؤ کی بڑی وجوہات غیر محفوظ جنسی تعلقات اور سرنجوں کا دوبارہ استعمال ہے۔ اس کے علاوہ اس مرض کی پاکستان آمد کی ایک وجہ ایسے بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کی واپسی ہے جنہیں خلیجی ممالک میں اس مرض کی تشخیص کے بعد ملک بدر کر دیا گیا تھا۔

صوبہ سندھ میں ضلع لاڑکانہ میں ایڈز کے مریضوں کی تعداد دیگر علاقوں سے زیادہ ہے۔ قمر عباس کا کہنا ہے کہ سن دو ہزار تین میں لاڑکانہ میں ایک دم ایچ آئی وی پازیٹو مریض زیادہ سامنے آنے لگے جو نشہ آور انجکشن کے لیے استعمال شدہ سرنجوں کے دوبارہ استعمال کی وجہ سے متاثر ہوئے تھے۔

پاکستان میں ایڈز کے مریضوں کی جانب سے حکومت اور معاشرے کا اس مرض کے بارے میں رویہ زیرِ تنقید رہا ہے۔

آغا خان یونیورسٹی کے پروفیسر فیصل محمود کا کہنا ہے کہ حکومتی سطح پر تو رویوں میں تبدیلی آئی ہے جس کا ثبوت یہ ہے کہ اب ایڈز کنٹرول پروگرام ہیں اور علاج کے لیے بھی سنجیدہ کوششیں نظر آتی ہیں مگر معاشرتی سطح پر کوئی تبدیلی نہیں آئی ہے۔ عوام میں آج بھی اس بات کا شعور نہیں کہ یہ مرض پھیلاتا کیسے ہے یا مریض کی دیکھ بھال کیسے کی جاتی ہے۔

ان کے مطابق متاثرہ لوگوں میں سے بعض کے ساتھ تو اُن کے خاندان کا رویہ اچھا ہوتا ہے، وہ مریض کی بات سمجھتے اور مانتے ہیں مگر کچھ مریضوں کے ساتھ اُن کے گھر والے انتہائی برا رویہ اختیار کرتے ہیں۔

پاکستان نے دو ہزار تین میں ایڈز کے پھیلاؤ کو روکنے کے پروگرام کے لیے عالمی بینک سے آسان شرائط پر قرضہ لیا تھا۔ اس پروگرام کو دو ہزار سات میں ختم ہونا تھا مگر عالمی بینک نے دسمبر دو ہزار نو تک اس میں توسیع کردی۔

پاکستان میں سیلاب کی وجہ سے بھی ایڈز کنٹرول پروگرام متاثر ہوا ہے۔ دو ہزار دس میں پروگرام کو مزید چلانے کے لیے چاروں صوبائی حکومتوں نے اپنی پی سی ون رپورٹیں وفاقی حکومت کو بھیجیں مگر سیلاب کے باعث حکومت اور عالمی بینک کی ترجیحات تبدیل ہو گئیں جس کی وجہ سے فنڈنگ میں تعطل آگیا۔

بعد میں آٹھارہویں آئینی ترمیم کے تحت وفاقی محکمہِ صحت ختم کردیا گیا، مگر سندھ حکومت نے اپنے سالانہ ترقیاتی پروگرام میں سے تین سال کے لیے اس پروگرام کو جاری رکھنے کے لیے رقم جاری کردی ہے۔

اسی بارے میں