بلوچستان: تین ’آبادکار‘ قتل

فائل فوٹو تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption اس واقعے کی ذمہ داری بلوچ لیبریشن آرمی نے قبول کرلی ہے۔

پاکستان کے صوبہ بلوچستان کے علاقے شاہرگ سے چار روز قبل اغواء کیے جانے والے تین آباد کاروں کو ناملعوم افراد نے قتل کر دیا ہے۔

کوئٹہ سے دو سو کلومیٹر دور شمال مشرق میں شاہرگ کے علاقے سے گزشتہ شب کوئلہ پنجاب لے جانے والے ڈرائیور عبدالرحمان، محمد حسین اور منشی ثناء الرحمان کی لاشیں مقامی لیویز کو ملی ہیں۔

لاشیں ملنے کے خلاف شاہرگ کے شہریوں نے شدید احتجاج کرتے ہوئے رات گئے لیویز تھانے پرحملہ کر کے وہاں دوگاڑیوں کو نذرِ آتش کر دیا تاہم بعد میں سیکورٹی فورسز نے وہاں پہنچ کرمظاہرین کو منتشر کر دیا۔

شاہرگ میں تحصیل دار نصیب شاہ کے مطابق ڈاکٹروں کی ضروری کاروائی مکمل ہونے پر لاشوں کو بذریعہ ایمولنس پنجاب روانہ کردیا گیا۔

اس واقعے کی ذمہ داری بلوچ لیبریشن آرمی نے قبول کرلی ہے۔ بلوچ لیبریشن آرمی کے ترجمان میرک بلوچ نے ایک نامعلوم مقام سے بی بی سی کو فون پر بتایا کہ ان چار آبادکاروں کو رواں سال چودہ اکتوبر کوئٹہ میں قتل کیے جانے والے مایہ ناز سرجن اور پاکستان میڈیکل ایسوسی ایشن کوئٹہ کے صدر پروفیسر ڈاکٹرمزار خان بلوچ کے قتل کے بدلے میں ہلاک کیا گیا ہے۔

بی ایل اے کے ترجمان نے مزید بتایا کہ ماروی گیس کمپنی کے تین اہلکاروں کو رہا کر دیا گیا ہے۔

واضح رہے کہ بلوچ مزاحمت کاروں نے تین ماہ قبل ماروی گیس کمپنی سے خیبر پختونخوا سے تعلق رکھنے والے تین اہلکاروں کو اغواء کر کے انھیں پھانسی دینے کا اعلان کر دیا تھا۔اس پر انسانی حقوق کمیشن آف پاکستان نے شدید تشویش کا اظہار کیا تھا اور بی ایل اے سے انسانی ہمدردی کی بنیاد پر ان اہلکاروں کومعاف کرنے کا مطالبہ کیا تھا۔

میرک بلوچ کے مطابق انسانی حقوق کمیشن کی بات سن لی گئی ہے لیکن انہوں نے خبردار کیا کہ آئندہ جو کوئی بھی بلوچستان کے وسائل لوٹنے میں ملوث پایا گیا اسے معاف نہیں کیا جائےگا۔