متنازع میمو:وزیر اعظم کی کمیٹی کو بریفنگ

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters

پاکستانی پارلیمان کے دونوں ایوانوں کے اراکین پر مشتمل قومی سلامتی کی خصوصی کمیٹی کے اہم اجلاس میں وزیراعظم سید یوسف رضا گیلانی اور سینئر حکام متنازع میمو کے بارے میں کمیٹی کو بریفنگ دے رہے ہیں۔

کمیٹی کے ایک سرکردہ رکن پروفیسر خورشید احمد نے بی بی سی کو بتایا اجلاس میں متنازع میمو سمیت پاکستان کی قومی سلامتی سے متعلق امور پر غور کیا جائے گا۔ انہوں نے اس بات کی تصدیق یا تردید سے گریز کیا کہ آیا بریفنگ میں وزارت دفاع اور خارجہ کے سیکریٹری بھی شریک ہوکر کمیٹی کو بریف کریں گے۔

حکومتی ذرائع کا کہنا ہے کہ وزیراعظم کمیٹی کو متنازع میمو اور مہمند ایجنسی میں فوج کی سلالہ چیک پوسٹ پر نیٹو کے حملے کے بعد پیدا ہونے والی صورتحال اور حکومت کے اقدامات پر بریف کریں گے اور انہیں اعتماد میں لیں گے۔

حکومتی ذرائع نے بی بی سی کو بتایا کہ کمیٹی اس نکتے پر بھی غور کرے گی کہ متنازع میمو کی تحقیقات پارلیمان کرے یا سپریم کورٹ کی تحقیقات تک انتظار کیا جائے۔

اس بات کا بھی جائزہ لیا جائے گا کہ جب حکومت نے متنازع میمو کی تحقیقات پارلیمان کو سونپی ہے تو سپریم کورٹ کی اس بارے میں آئینی درخواستوں کی سماعت سے کہیں پارلیمان کی بالادستی پر تو کوئی آنچ نہیں آئے گی؟

واضح رہے کہ تاحال تمام فیصلے اس سترہ رکنی کمیٹی نے تقریباً اتفاق رائے سے کیے ہیں لیکن اب حکومتی اتحاد میں شامل جماعتوں اور حزب مخالف کی جماعتوں میں متنازع میمو کی تحقیقات کے سوال پر اختلاف رائے پایا جا رہا ہے۔

پیپلز پارٹی اور اس کی اتحادی جماعتوں کا موقف ہے کہ تحقیقات پارلیمان کرے اور وہ اپنا اختیار سرینڈر نہ کرے لیکن مسلم لیگ (ن) اور جماعت اسلامی کا موقف ہے کہ اس معاملے کی تحقیقات سپریم کورٹ کرے۔

اسی بارے میں